مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12090
وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ كُلُّهُمُ ابْنَ الزُّبَيْرِ إِلَّا أَهْلَ الْأُرْدُنِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رُؤُوسُ بَنِي أُمَيَّةَ وَنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَشْرَافِهِمْ ، فِيهِمْ رَوْحُ بْنُ الزِّنْبَاعِ الْجُذَامِيُّ ، قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّ الْمُلْكَ كَانَ فِينَا أَهْلَ الشَّامِ فَيَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِ الْحِجَازِ ؟ لَا نَرْضَى بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤محمد محی الدین
ابومعشر بیان کرتے ہیں : جب معاویہ بن یزید کا انتقال ہو گیا ، تو تمام اہل شام نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی ، صرف اہل اردن نے نہیں کی ، جب بنو امیہ کے اکابرین نے یہ صورت حال دیکھی اور شام کے کچھ افراد اور معززین نے یہ بات دیکھی ، جن میں ایک روح بن زنباع جذامی بھی تھا ، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: حکومت تو ہمارے یعنی اہل شام کے درمیان رہنی چاہیے اور یہ اب منتقل ہو کے اہل حجاز کی طرف چلی جائے گی ، تو ہم اس سے راضی نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔