کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 12078
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ يَزِيدَ بَعَثَ إِلَى عَامِلِ الْمَدِينَةِ أَنْ أَوْفِدْ إِلَيَّ مَنْ تَشَاءُ . قَالَ : فَوَفَدَ إِلَيْهِ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَجَاءَ حَاجِبُ مُعَاوِيَةَ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : هَذَا عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ قَدْ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ . فَقَالَ : مَا حَاجَتُهُمْ إِلَيَّ ؟ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، جَاءَ يَطْلُبُ مَعْرُوفَكَ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَلْيَكْتُبْ مَا شَاءَ ، فَأُعْطِيهِ مَا شَاءَ وَلَا أَرَاهُ . قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَاجِبُ فَقَالَ : مَا حَاجَتُكَ ؟ اكْتُبْ مَا شِئْتَ . فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَجِيءُ إِلَى بَابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأُحْجَبُ عَنْهُ ؟ ! أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَأُكَلِّمَهُ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْحَاجِبِ : عِدْهُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ فَلْيَجِئْ . قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى مُعَاوِيَةُ الْغَدَاةَ أَمَرَ بِسَرِيرٍ [ فَجُعِلَ ] فِي إِيوَانٍ لَهُ ، ثُمَّ أَخْرَجَ النَّاسَ عَنْهُ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ أَحَدٌ سِوَى كُرْسِيٍّ وُضِعَ لِعَمْرٍو . فَجَاءَ عَمْرٌو فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْكُرْسِيِّ . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : حَاجَتَكَ ؟ قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : لَعَمْرِي لَقَدْ أَصْبَحَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ وَاسِطَ الْحَسَبِ فِي قُرَيْشٍ غَنِيًّا عَنِ الْمُلْكِ غَنِيًّا إِلَّا عَنْ كُلِّ خَيْرٍ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْتَرْعِ عَبْدًا رَعِيَّةً إِلَّا وَهُوَ سَائِلُهُ عَنْهَا [ كَيْفَ صَنَعَ فِيهَا " . ¤ وَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ يَا مُعَاوِيَةَ فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَسْتَخْلِفُ عَلَيْهَا ] قَالَ : فَأَخَذَ مُعَاوِيَةَ رَبْوُةُ وَأَخَذَ يَتَنَفَّسُ فِي غَدَاةِ قُرٍّ ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ وَجْهِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَفَاقَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّكَ امْرُؤٌ نَاصِحٌ ، قُلْتَ بِرَأْيِكَ بَالِغَ مَا بَلَغَ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ إِلَّا ابْنِي وَأَبْنَاؤُهُمْ ، وَابْنِي أَحَقُّ مِنْ أَبْنَائِهِمْ ، حَاجَتَكَ ؟ قَالَ : مَا لِي حَاجَةٌ . قَالَ : ثُمَّ قَالَ لَهُ أَخُوهُ : إِنَّمَا جِئْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نَضْرِبُ أَكْبَادَهَا مِنْ أَجْلِ كَلِمَاتٍ . قَالَ : مَا جِئْتَ إِلَّا لِكَلِمَاتٍ . قَالَ : فَأَمَرَ لَهُمْ بِجَوَائِزِهِمْ . قَالَ : وَخَرَجَ لِعَمْرٍو مِثْلُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے مدینہ منورہ کے گورنر کو خط لکھا کہ تم میری طرف جسے چاہو وفد کی شکل میں بھجواؤ ، راوی بیان کرتے ہیں ، تو سیدنا عمرو بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ وفد کی شکل میں ان کے پاس گئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربان نے آ کر بتایا کہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اسے مجھ سے کیا کام ہے ؟ دربان نے بتایا : امیرالمؤمنین وہ آپ سے بھلائی کے حصول کے لئے آئے ہیں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو تو وہ جو چاہتا ہے تم لکھ کے دے دو اور جو وہ چاہتا ہے وہ اسے دے دو ، میں اسے نہ دیکھوں ، دربان نکل کر ان کے پاس آیا اور بولا: آپ کو کیا کام ہے ، آپ جو چاہتے ہیں ، میں وہ لکھ دیتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! میں امیرالمؤمنین کے دروازے پر آیا ہوں ، کیا مجھے ان سے ملنے نہیں دیا جائے گا ، میں ان سے ملنا چاہتا ہوں اور ان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دربان سے کہا: کہ تم ان کے ساتھ فلاں فلاں دن کا طے کر لو کہ فجر کی نماز کے بعد وہ آ جائیں ، راوی کہتے ہیں جب اس مخصوص دن میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز ادا کر لی تو ان کے حکم کے تحت ان کے ایوان میں پلنگ رکھا گیا اور لوگوں کو ان کے پاس سے نکال دیا گیا ، اس وقت ایک کرسی کے علاوہ اور کوئی ان کے پاس نہیں تھا اور وہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے لئے رکھی گئی تھی ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور پھر وہ کرسی پر بیٹھ گئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر بولے : ” مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی اب یہ حالت ہے کہ وہ قریش میں سب سے بہتر نسب کا مالک ہے اور بادشاہی سے بے نیاز ہے اور ہر قسم کی بھلائی اسے حاصل ہے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی بندہ رعایا کا نگران بنتا ہے تو اس سے اس رعایا کے بارے میں حساب لیا جائے گا کہ اس نے رعایا کے بارے میں کیا طریقہ کار اختیار کیا تھا ؟ “ ۔ تو اے سیدنا معاویہ ! میں آپ کو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، اس شخص کے حوالے سے ، جسے آپ اس امت کا نگران مقرر کریں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے گہرا سانس لیا ، وہ کچھ دیر تک گہرے سانس لیتے رہے ، پھر انہوں نے اپنے چہرے سے تین مرتبہ پسینہ پونچھا ، پھر ان کی طبیعت بہتر ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر بولے : امابعد ! تم ایک خیرخواہی کرنے والے شخص ہو ، تم نے اپنی رائے کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا ہے ، اب صرف میرا بیٹا ہے اور ان لوگوں کے بیٹے باقی رہ گئے ہیں ، اور میرا بیٹا ان لوگوں کے بیٹوں سے زیادہ حق رکھتا ہے ، تمہیں کوئی اور کام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اور کوئی کام نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: ہم مدینہ منورہ سے سفر کر کے صرف ان چند باتوں کے لئے آئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہم صرف اسی بات کے لئے آئے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو تحفے تحائف دینے کا حکم دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو کے لیے اس کی مانند نکلا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12078
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7174)»
حدیث نمبر: 12079
وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : هَلَكَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ فُسْتُقَةَ - : وَبَلَغَنِي أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدَ الْخُزَاعِيَّ خَرَجَ هُوَ وَالْمُسَيَّبُ بْنُ نَجَبَةَ الْفَزَارِيُّ فِي أَرْبَعَةِ آلَافٍ ، فَعَسْكَرُوا بِالنَّخِيلَةِ يَطْلُبُونَ بِدَمِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَعَلَيْهِمْ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ ، وَذَلِكَ لِمُسْتَهَلِّ رَبِيعٍ الْآخِرِ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ، ثُمَّ سَارُوا إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَلَقَوْا مُقَدِّمَتَهُ ، فَاقْتَتَلُوا ، فَقُتِلَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ وَالْمُسَيَّبُ ، وَذَلِكَ لِمُسْتَهَلِّ رَبِيعٍ الْآخِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سلیمان بن صرد کا انتقال پینسٹھ ہجری میں ہوا تھا ۔ محمد بن علی مدینی کہتے ہیں : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ سلیمان بن صرد خزاعی اور مسیب بن نجوہ فزاری چار ہزار کا لشکر لے کر نکلے ، انہوں نے نخیلہ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، یہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے کے طلبگار تھے ، سلیمان بن صرد ان کا امیر تھا ، یہ ربیع الثانی پینسٹھ ہجری کے پہلی کے چاند کے آس پاس کی بات ہے ، پھر وہ لوگ نکل کر عبیداللہ بن زیاد کی طرف گئے ، ان کا سامنا اس کے ہر اول دستے سے ہوا ، انہوں نے آپس میں جنگ کی اور ربیع الثانی کے آخر میں سلیمان بن صرد اور مسیب مارے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12079
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6483)»
حدیث نمبر: 12080
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ - يَعْنِي ابْنَ رُمَّانَةَ - أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ : قَدْ وَطَّأْتُ لَكَ الْبِلَادَ ، وَفَرَشْتُ لَكَ النَّاسَ ، وَلَسْتُ أَخَافُ عَلَيْكُمْ إِلَّا أَهْلَ الْحِجَازِ ، فَإِنْ رَابَكَ مِنْهُمْ رَيْبٌ فَوَجِّهْ إِلَيْهِمْ مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ ، فَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ أَجِدْ لَهُ مِثْلًا لِطَاعَتِهِ وَنَصِيحَتِهِ . فَلَمَّا جَاءَ يَزِيدَ خِلَافُ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَدُعَاؤُهُ إِلَى نَفْسِهِ دَعَا مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ وَقَدْ أَصَابَهُ الْفَالِجُ ، وَقَالَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَهِدَ إِلَيَّ فِي مَرَضِهِ إِنْ رَابَنِي مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ رَائِبٌ أَنْ أُوَجِّهَكَ إِلَيْهِمْ ، وَقَدْ رَابَنِي . فَقَالَ : إِنِّي كَمَا ظَنَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، اعْقِدْ لِي وَعَبِّ الْجُيُوشَ . قَالَ : فَوَرَدَ الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى بَيْعَةِ يَزِيدَ ، إِنَّهُمْ أَعْبُدٌ لَهُ قِنٌّ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَمَعْصِيَتِهِ ، فَأَجَابُوهُ إِلَى ذَلِكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا مِنْ قُرَيْشٍ أُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ ، فَقَالَ لَهُ : بَايِعْ لِيَزِيدَ عَلَى أَنَّكَ عَبْدٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَمَعْصِيَتِهِ . قَالَ : لَا ، بَلْ فِي طَاعَةِ اللَّهِ . فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ ذَلِكَ مِنْهُ وَقَتَلَهُ . فَأَقْسَمَتْ أُمُّهُ قَسَمًا لَئِنْ أَمْكَنَهَا اللَّهُ مِنْ مُسْلِمٍ حَيًّا أَوْ مَيِّتًا أَنْ تَحْرِقَهُ بِالنَّارِ . فَلَمَّا خَرَجَ مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ مِنَ الْمَدِينَةِ اشْتَدَّتْ عِلَّتُهُ فَمَاتَ . فَخَرَجَتْ أُمُّ الْقُرَشِيِّ بِأَعْبُدٍ لَهَا إِلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ ، فَأَمَرَتْ بِهِ أَنْ يُنْبَشَ مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ ، فَلَمَّا وَصَلُوا إِلَيْهِ إِذَا ثُعْبَانٌ قَدِ الْتَوَى عَلَى عُنُقِهِ قَابِضًا بِأَرْنَبَةِ أَنْفِهِ يَمُصُّهَا . قَالَ : فَكَاعَ الْقَوْمُ عَنْهُ وَقَالُوا : يَا مَوْلَاتِنَا ، انْصَرِفِي فَقَدْ كَفَاكِ اللَّهُ شَرَّهُ ، وَأَخْبَرُوهَا . قَالَتْ : لَا ، أَوْ أَفِي لِلَّهِ بِمَا وَعَدْتُهُ ، ثُمَّ قَالَتْ : انْبِشُوا مِنْ عِنْدِ الرِّجْلَيْنِ ، فَنَبَشُوا فَإِذَا الثُّعْبَانُ لَاوٍ ذَنَبَهُ بِرِجْلَيْهِ . قَالَ : فَتَنَحَّتْ فَصَلَّتْ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا غَضِبْتُ عَلَى مُسْلِمِ بْنِ عُقْبَةَ الْيَوْمَ لَكَ فَخَلِّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، ثُمَّ تَنَاوَلَتْ عُودًا فَمَضَتْ إِلَى ذَنَبِ الثُّعْبَانِ فَانْسَلَّ مِنْ مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَبْرِ ، ثُمَّ أَمَرَتْ بِهِ فَأُخْرِجَ مِنَ الْقَبْرِ فَأُحْرِقَ بِالنَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَابْنُ رُمَّانَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سعید بن رمانہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یزید بن معاویہ سے کہا: میں نے تمہارے لئے شہروں کو زیرنگیں کر دیا ہے اور لوگوں کو تمہارے لئے پابند کر دیا ہے ، مجھے تمہارے بارے میں صرف اہل حجاز کے حوالے سے اندیشہ ہے ، اگر تمہیں ان کی طرف سے کوئی مشکوک صورت حال نظر آئے ، تو تم مسلم بن عقبہ مری کو ان کی طرف بھیجنا ، کیونکہ میں اسے ایک سے زیادہ مرتبہ آزما چکا ہوں ، اطاعت و فرمانبرداری اور خیرخواہی کے حوالے سے مجھے اس جیسا شخص اور نہیں ملتا ، راوی کہتے ہیں : جب یزید کو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے اختلاف کا پتہ چلا کہ وہ کیسے اپنی حکومت کی طرف دعوت دے رہے ہیں ، تو اس نے مسلم بن عقبہ مری کو بلایا اس شخص کو فالج ہو چکا تھا ، یزید نے کہا: امیرالمؤمنین نے اپنی بیماری کے دوران مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اگر مجھے اہل حجاز کی طرف سے کوئی مشکوک صورت حال نظر آئے ، تو میں تمہیں ان کی طرف بھیجوں ، تو مجھے یہ صورت حال نظر آ گئی ہے ، تو مسلم بن عقبہ نے کہا: میں ویسا ہی ہوں جس طرح امیرالمؤمنین کا گمان ہے ، آپ میرے لئے لشکر تیار کروائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ مدینہ منورہ میں تین دن مقیم رہا ، اس نے لوگوں کو یزید کی بیعت کرنے کی دعوت دی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور معصیت ، ہر معاملے میں یزید بن معاویہ کے حکم کے پابند ہوں گے ، لوگوں نے اس کی بات مان لی ، قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس کی بات نہیں مانی ، اس شخص کی ماں ایک اُم ولد تھی ، انہوں نے اس سے کہا: تم یزید کی بیعت اس بات پر لے رہے ہو کہ تم اللہ کی اطاعت اور نافرمانی ، ہر حالت میں اس کے غلام ہو ؟ تو اس شخص نے کہا: جی نہیں ! بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے بارے میں ، میں اس کی پیروی کروں گا ، اس نے یہ بات قبول کرنے سے انکار کیا ، تو مسلم بن عقبہ نے اسے قتل کروا دیا ۔ اس شخص کی ماں نے یہ قسم اٹھائی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مسلم پر اسے ق ابودیا ، خواہ اس وقت مسلم زندہ ہو یا مردہ ہو ، تو وہ عورت مسلم کو آگ کے ذریعے جلائے گی ، جب مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ سے نکلا اور اس کی بیماری شدید ہو گئی اور وہ مر گیا ، تو اس قریشی شخص کی ماں اپنے غلاموں کو لے کر مسلم کی قبر کے پاس آئی ، اس نے حکم دیا کہ سرہانے کی طرف سے مسلم کی قبر کو کھودا جائے ، جب وہ لوگ مسلم کی لاش کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سانپ موجود تھا ، جس نے اس کی گردن کو لپیٹا ہوا تھا اور وہ اس کے ناک کو چوس رہا تھا ، لوگ ڈر گئے ، انہوں نے کہا: اے ہماری مالکن ! آپ واپس چلی جائیں ، کیونکہ اس شخص کے شر کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کر دی ہے ، ان لوگوں نے اس خاتون کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ، میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کروں گی ، پھر اس عورت نے کہا: پاؤں کی طرف سے اس کی قبر کھودو ! ان لوگوں نے اس کی قبر کھودی ، تو ایک سانپ اس کے دونوں پاؤں سے بھی لپٹا ہوا تھا ، راوی کہتے ہیں : اس خاتون نے ایک طرف ہٹ کر دو رکعت ادا کیں اور پھر عرض کی : اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ تو نے آج مسلم بن عقبہ پر اپنے غضب کا اظہار کر دیا ہے ، تو اب مجھے بھی اس کا موقع دے ، پھر اس عورت نے ایک لکڑی پکڑی اور اس کے ذریعے سانپ کی دم کو ہٹایا ، تو وہ سر کے پچھلی طرف سے کھسک گیا اور قبر کی بائیں طرف سے باہر نکل گیا ، پھر اس عورت نے مسلم کے بارے میں حکم دیا ، تو اس کی لاش کو قبر سے نکالا گیا اور پھر آگ کے ذریعے جلا دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالرحمن ذماری ہے ، جسے ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ، ابن رمانہ نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12080
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12081
وَعَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ مُمَّعِطَ اللِّحْيَةِ ، فَقَالَ : تَعْبَثُ بِلِحْيَتِكَ ؟ قَالَ : لَا ، هَذَا مَا رَأَيْتُ مِنْ ظَلَمَةِ أَهْلِ الشَّامِ ، دَخَلُوا عَلَيَّ زَمَانَ الْحَرَّةِ ، فَأَخَذُوا مَا كَانَ فِي الْبَيْتِ مِنْ مَتَاعٍ أَوْ خُرْثِيٍّ ، ثُمَّ دَخَلَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى فَلَمْ يَجِدُوا فِي الْبَيْتِ شَيْئًا فَأَسِفُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ ، فَقَالُوا : أَضْجِعُوا الشَّيْخَ ، فَأَضْجَعُونِي ، فَجَعَلَ كُلٌّ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِي خَصْلَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو هَارُونَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوہارون عبدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اُن کے داڑھی کے بال گر چکے ہوئے تھے ، راوی نے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کے ساتھ کھیلتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ! اہل شام سے تعلق رکھنے والے ظالم لوگوں کی طرف سے مجھے اس کا سامنا کرنا پڑا ، واقعہ حرہ کے زمانے میں وہ میرے گھر میں آئے ، انہوں نے گھر میں موجود سب مال و اسباب لوٹ لیا ، پھر دوسرا گروہ گھر میں آیا تو انہیں گھر میں کچھ نہیں ملا ، انہیں اس بات پر افسوس ہوا کہ وہ کچھ لیے بغیر واپس جائیں گے ، تو انہوں نے کہا: اس بڈھے کو لٹاؤ ! تو انہوں نے مجھے لٹا دیا ، اور ان میں سے ہر ایک نے میری داڑھی کے بال نوچے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوہارون نامی راوی متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12081
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 12082
وَعَنْ إِيَادِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : كَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَيْعَةِ ، فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ ، فَظَنَّ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ إِنَّمَا امْتَنَعَ عَلَيْهِ لِمَكَانِهِ ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : [ ابْنَ عَبَّاسٍ ] أَمَّا بَعْدُ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ الْمُلْحِدَ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَعَاكَ إِلَى بَيْعَتِهِ لِيُدْخِلَكَ فِي طَاعَتِهِ فَتَكُونَ عَلَى الْبَاطِلِ ظَهِيرًا ، وَفِي الْمَأْثَمِ شَرِيكًا ، فَامْتَنَعْتَ عَلَيْهِ ، وَانْقَبَضْتَ لِمَا عَرَّفَكَ اللَّهُ فِي نَفْسِكَ مِنْ حَقِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ أَفْضَلَ مَا جَزَى الْوَاصِلِينَ عَنْ أَرْحَامِهِمُ الْمُوفِينَ بِعُهُودِهِمْ ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَنْ أَنْسَى بِرَّكَ وَصِلَتَكَ ، وَحُسْنَ جَائِزَتِكَ الَّتِي أَنْتَ أَهْلُهَا فِي الطَّاعَةِ ، وَالشَّرَفِ ، وَالْقَرَابَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ مَنْ قِبَلَكَ مِنْ قَوْمِكَ وَمَنْ يَطْرَأُ عَلَيْكَ مِنْ أَهْلِ الْآفَاقِ مِمَّنْ يَسْحَرُهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِلِسَانِهِ ، وَزُخْرُفِ قَوْلِهِ ، فَخَذِّلْهُمْ عَنْهُ ، فَإِنَّهُمْ لَكَ أَطْوَعُ ، وَمِنْكَ أَسْمَعُ مِنْهُمْ لِلْمُلْحِدِ ، وَالْخَارِقِ الْمَارِقِ ، وَالسَّلَامُ . ¤ فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَيْهِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ ، تَذْكُرُ فِيهِ دُعَاءَ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِيَّايَ لِلَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ ، وَأَنِّي امْتَنَعْتُ عَلَيْهِ مَعْرِفَةً لِحَقِّكَ ، فَإِنْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَسْتُ بِرَّكَ أَرْجُو بِذَلِكَ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ بِمَا أَنْوِي بِهِ عَلِيمٌ . ¤ وَكَتَبْتَ إِلَيَّ أَنْ أَحُثَّ النَّاسَ عَلَيْكَ وَأَخْذُلَهُمْ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَلَا وَلَا سُرُورَ وَلَا حُبُورَ ، بِفِيكَ الْكَثْكَثُ ، وَلَكَ الْأَثْلَبُ ، إِنَّكَ الْعَازِبُ إِنْ مَنَّتْكَ نَفْسُكَ ، وَإِنَّكَ لَأَنْتَ الْمَفْقُودُ الْمَثْبُورُ . ¤ وَكَتَبْتَ إِلَيَّ بِتَعْجِيلِ بِرِّي وَصِلَتِي ، فَاحْبِسْ أَيُّهَا الْإِنْسَانُ عَنِّي بِرَّكَ وَصِلَتَكَ ، فَإِنِّي حَابِسٌ عَنْكَ وُدِّي وَنُصْرَتِي ، وَلَعَمْرِي مَا تُعْطِينَا مِمَّا فِي يَدِكَ لَنَا إِلَّا الْقَلِيلَ وَتَحْبِسُ مِنْهُ الطَّوِيلَ الْعَرِيضَ ، لَا أَبَا لَكَ ، أَتُرَانِي أَنْسَى قَتْلَكَ حُسَيْنًا وَفِتْيَانَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مَصَابِيحَ الدُّجَى وَنُجُومَ الْأَعْلَامِ ، وَغَادَرَتْهُمْ خُيُولُكَ بِأَمْرِكَ فَأَصْبَحُوا مُصْرَعِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، مُزَمَّلِينَ بِالدِّمَاءِ ، مَسْلُوبِينَ بِالْعَرَاءِ ، لَا مُكَفَّنِينَ وَلَا مُوَسَّدِينَ ، تُسَفِّيهُمُ الرِّيَاحُ ، وَتَغْزُوهُمُ الذِّئَابُ ، وَتَنْتَابُهُمْ عُرْجُ الضِّبَاعِ ، حَتَّى أَتَاحَ اللَّهُ لَهُمْ قَوْمًا لَمْ يُشْرِكُوا فِي دِمَائِهِمْ فَكَفَّنُوهُمْ وَأَجْنَوْهُمْ ، وَبِهِمْ وَاللَّهِ وَبِي مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَجَلَسْتَ فِي مَجْلِسِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْلِيطَكَ عَلَيْهِمُ الدَّعِيَّ ابْنَ الدَّعِيِّ الَّذِي كَانَ لِلْعَاهِرَةِ الْفَاجِرَةِ ، الْبَعِيدَ رَحِمًا ، اللَّئِيمَ أَبًا وَأُمًّا ، الَّذِي اكْتَسَبَ أَبُوكَ فِي ادِّعَائِهِ لَهُ الْعَارَ وَالْمَأْثَمَ وَالْمَذَلَّةَ وَالْخِزْيَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . وَإِنَّ أَبَاكَ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَلَدَ لِغَيْرِ الْفِرَاشِ وَلَا يَضِيرُ الْعَاهِرَ ، وَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهُ كَمَا يَلْحَقُ وَلَدُ الْبَغِيِّ الرَّشِيدُ ، وَلَقَدْ أَمَاتَ أَبُوكَ السُّنَّةَ جَهْلًا ، وَأَحْيَا الْأَحْدَاثَ الْمُضِلَّةَ عَمْدًا . وَمَهْمَا أَنْسَ مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْيِيرَكَ حُسَيْنًا مِنْ حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَرَمِ اللَّهِ ، وَتَسْيِيرَكَ إِلَيْهِ الرِّجَالَ ، وَادِّسَاسَكَ إِلَيْهِمْ أَنْ يُدْرِيَكُمْ ، فَعَالَجُوهُ فَمَا زِلْتَ بِذَلِكَ وَكَذَلِكَ حَتَّى أَخْرَجْتَهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ الْكُوفَةِ ، تَزْأَرُ بِهِ إِلَيْهِ خَيْلُكَ وَجُنُودُكَ زَئِيرَ الْأَسَدِ ، عَدَاوَةً مِنْكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلَأَهْلِ بَيْتِهِ ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَى ابْنِ مَرْجَانَةَ يَسْتَقْبِلُهُ بِالْخَيْلِ وَالرِّجَالِ وَالْأَسِنَّةِ وَالسُّيُوفِ ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَيْهِ بِمُعَالَجَتِهِ وَتَرْكِ مُطَاوَلَتِهِ حَتَّى قَتَلْتَهُ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ فِتْيَانِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا ، نَحْنُ كَذَلِكَ لَا كَآبَائِكَ [ الْأَجْلَافِ ] الْجُفَاةِ أَكْبَادِ الْحَمِيرِ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ كَانَ أَعَزَّ أَهْلِ الْبَطْحَاءِ بِالْبَطْحَاءِ قَدِيمًا وَأَعَزَّهُ بِهَا حَدِيثًا ، لَوَّثُوا الْحَرَمَيْنِ مَقَامًا ، وَاسْتَحَلَّ بِهَا قِتَالًا ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْتَحِلُّ [ بِهِ ] حَرَمَ اللَّهِ وَحَرَمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحُرْمَةَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ ، [ فَطَلَبَ إِلَيْكُمْ الْحُسَيْنُ الْمُوَادَعَةَ وَسَأَلَكُمُ الرَّجْعَةَ فَاغْتَنَمْتُمْ ] قِلَّةَ أَنْصَارِهِ وَاسْتِئْصَالَ أَهْلِ بَيْتِهِ ، كَأَنَّكُمْ تَقْتُلُونَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ التُّرْكِ أَوْ كَابُلَ . ¤ وَكَيْفَ تَجِدُنِي عَلَى وُدِّكَ ، وَتَطْلُبُ نَصْرِي ، وَقَدْ قَتَلْتَ بَنِي أَبِي ، وَسَيْفُكَ يَقْطُرُ مِنْ دَمِي ، وَأَنْتَ تَطْلُبُ ثَأْرِي ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا يُطِلُّ إِلَيْكَ دَمِي ، وَلَا تَسْبِقُنِي بِثَأْرِي ، وَإِنْ تَسْبِقْنَا بِهِ فَقَبِلْنَا مَا قُتِلَتِ النَّبِيُّونَ [ وَآلُ النَّبِيِّينَ ] ، فَطَلَبَ دِمَاءَهُمْ فِي الدِّمَاءِ ، وَكَانَ الْمُوعِدَ اللَّهُ ، وَكَفَى بِاللَّهِ لِلْمَظْلُومِينَ نَاصِرًا مِنَ الظَّالِمِينَ مُنْتَقِمًا . وَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ مَا عِشْتَ يُرِيكَ الدَّهْرُ الْعَجَبَ ، حَمْلَكَ بَنَاتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَحَمْلَكَ أَبْنَاءَهُمْ أُغَيْلِمَةً صِغَارًا إِلَيْكَ بِالشَّامِ ، تُرِي النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ قَهَرْتَنَا وَأَنَّكَ تُذِلُّنَا ، وَبِهِمْ وَاللَّهِ وَبِي مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ وَأُمِّكَ مِنَ السِّبَاءِ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُصْبِحُ وَتُمْسِي آمِنًا لِجِرَاحِ يَدِي وَلَيَعْظُمَنَّ جَرْحُكَ بِلِسَانِي وَبَنَانِي وَنَقْضِي وَإِبْرَامِي ، لَا يَسْتَغِرَّنَّكَ الْجَدَلُ ، فَلَنْ يُمْهِلَكَ اللَّهُ بَعْدَ قَتْلِكَ عِتْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَأْخُذَكَ اللَّهُ أَخْذًا أَلِيمًا ، وَيُخْرِجَكَ مِنَ الدُّنْيَا آثِمًا مَذْمُومًا ، فَعِشْ لَا أَبَا لَكَ مَا شِئْتَ فَقَدْ أَرْدَاكَ عِنْدَ اللَّهِ مَا اقْتَرَفْتَ . ¤ لَمَّا قَرَأَ يَزِيدُ الرِّسَالَةَ قَالَ : لَقَدْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُنْصَبَّا عَلَى الشَّرِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ایاد بن ولید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیعت کے حوالے سے خط لکھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ، یزید بن معاویہ یہ سمجھا کہ انہوں نے اُس ( یعنی یزید بن معاویہ ) کی وجہ سے انکار کیا ہے ، تو یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا ، جس میں یہ تحریر تھا : ( اے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ! ) امابعد ! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ ابن زبیر ملحد نے آپ کو اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی تھی ، تاکہ وہ آپ کو اپنی اطاعت میں داخل کرے ، اور آپ باطل کے مددگار بن جائیں ، اور گناہ میں حصے دار ہو جائیں ، لیکن آپ نے انکار کر دیا اور ہاتھ پیچھے کر لیا ، کیونکہ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے من میں ہمارے حق کی معرفت داخل کر دی ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو وہ سب سے اچھی جزا عطا فرمائے ، جو جزا وہ صلہ رحمی کرنے والوں اور اپنے عہد کو پورا کرنے والوں کو دیتا ہے ۔ ہو سکتا ہے میں بہت سی چیزیں بھول جاؤں ، لیکن میں آپ کی اچھائی ، آپ کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی کو نہیں بھولوں گا ، اطاعت ، شرف اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت کے حوالے سے آپ اس کے اہل ہیں ۔ آپ اپنی طرف موجود اپنی قوم اور دور دراز کے علاقوں سے جو لوگ آپ کے پاس آتے ہیں ، آپ ان کا جائزہ لیں ، کہ جنہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی زبان کے ذریعے اپنی آراستہ جھوٹی گفتگو سے مسحور کیا ہوا ہے ، آپ ان لوگوں کو اس سے الگ کروا دیں ، کیونکہ اس ملحد ، دراڑ ڈالنے والے باغی کے مقابلے میں ، لوگ آپ کے زیادہ فرمانبردار ہیں ، اور آپ کی بات زیادہ سنتے ہیں ، والسلام ! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُس کو ( جوابی خط میں ) لکھا : امابعد ! تمہارا خط مجھے ملا ، جس میں تم نے یہ ذکر کیا کہ ابن زبیر نے مجھے دعوت دی ، اس چیز کی ، جس کی اس نے مجھے دعوت دی اور میں نے تمہارے حق کی معرفت کی وجہ سے اس کو انکار کر دیا ، اگر یہ بات اسی طرح ہوتی ، تو بھی میں اس کے ذریعے تمہاری طرف سے کسی مہربانی کی توقع نہ رکھتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں میری نیت کے بارے میں بہتر جانتا ہے ، تم نے مجھے یہ تحریر کیا : کہ میں لوگوں کو تمہارے بارے میں ترغیب دوں اور انہیں ابن زبیر سے ہٹا دوں ، تو یہ نہیں ہو گا ، نہ یہ خوشی کی بات ہے اور نہ ہی اچھائی کی ہے ، تمہارے منہ میں خاک ہو ، تمہیں پتھر ملیں ، اگر تمہارا نفس تم پر مہربانی کر دے ، تو تم دور کے فرد ہو ، اور تم ایک گمشده ، برباد شدہ فرد ہو ۔ تم نے مجھے میرے ساتھ اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں جلدی کرنے کے حوالے سے جو لکھا ہے ، تو اے فرد ! تم اپنی اچھائی اور صلہ رحمی ( مجھ سے ) دور ہی رکھو ! اور میں نے بھی اپنی محبت اور نصرت تم سے روک کے ہی رکھی ہوئی ہے ۔ اور میری عمر کی قسم ، تم اپنے ہاتھ میں موجود چیزوں میں سے جو کچھ بھی دو گے ، وہ تھوڑا ہو گا اور اس میں سے بہت سے لمبے چوڑے حصے کو تم روک لو گے ، تمہارا باپ نہ رہے ، کیا تم میرے بارے میں یہ سمجھتے ہو ؟ کہ میں یہ بات بھول جاؤں گا کہ تم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور خاندان عبدالمطلب کے نوجوانوں کو شہید کروایا ہے ، جو اندھیرے میں چراغ اور روشن ستاروں کی حیثیت رکھتے تھے ، اور تمہارے حکم سے تمہارے گھڑ سواروں نے اُن کی لاشوں کی بے حرمتی کی ، اور وہ ایک میدان میں یوں پڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے خون کی چادریں اوڑھی ہوئی تھیں ، انہیں رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا ، نہ انہیں کفن دیا گیا اور نہ انہیں ٹیک دی گئی ، ہوائیں ان پر گرد اڑاتی رہیں ، بھیڑیے اُن کے پاس آتے رہے ، بجو انہیں نوچتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے پاس ایک ایسی قوم کو لے کر آ گیا ، جو اُن کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں رکھتے تھے ، اور ان لوگوں نے اُن ( شہداء ) کے کفن دفن کا انتظام کیا ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ احسان کیا کہ تم اس مقام پر موجود ہو ، جو تمہاری حیثیت ہے ، میں ہر چیز بھول سکتا ہوں ، لیکن میں یہ بات نہیں بھول سکتا کہ تم نے اُن لوگوں پر ایک ایسے شخص کو مسلط کیا ، جو نطفہ ناتحقیق ہے ، جو ایک گناہگار زانیہ کا بیٹا ہے ، رحم ( یا رشتہ داری ) کے حوالے سے دور ہے ، اور ماں باپ کے حوالے سے کمتر ہے ، یہ وہ شخص ہے کہ تمہارے والد نے اس کا دعویٰ کر کے دنیا و آخرت میں اپنے لیے شرمندگی ، گناہ اور ذلت کمائی ہے ۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بچہ فراش والے کا شمار ہوتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ( یا پتھر ) ملتا ہے ۔ “ اور تمہارے والد یہ گمان کرتے تھے کہ بچہ فراش والے کے علاوہ کو بھی دیا جا سکتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے ، اور اس کا ( ناجائز ) بچہ ، اس کے ساتھ لاحق کر دیا جائے ، جس طرح فاحشہ کے بچے کو نیک آدمی کے ساتھ لاحق کیا جاتا ہے ، تو تمہارے والد نے جہالت کی وجہ سے سنت کو موت دی ، اور جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی بدعتیں پیدا کیں ۔ میں بہت سی چیزیں بھول سکتا ہوں ، لیکن یہ بات نہیں بھول سکتا کہ تم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے اللہ تعالیٰ کے حرم کی طرف جانے پر مجبور کیا اور پھر تم نے ان کی طرف اپنے آدمی اور سازشی لوگ بھیجے ، کہ اگر صورتحال ق ابوسے باہر ہوئی تو تم لوگ انہیں سنبھال لینا ، اور تم مسلسل اُن کے ساتھ ایسا کرتے رہے ، یہاں تک کہ تم نے انہیں مکہ سے نکل کر کوفہ کی سرزمین کی طرف جانے پر مجبور کر دیا ، جہاں تم نے اپنے شہوار اور لشکر ان کی گھات میں یوں تیار رکھے تھے ، جیسے شیر گھات میں ہوتا ہے ، اور یہ سب کچھ تمہاری اُس عداوت کی وجہ سے تھا ، جو عداوت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان ( یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اہل بیت کے لیے تھی ۔ پھر تم نے ابن مرجانہ کو خط لکھا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ اپنے گھڑ سواروں ، پیادہ افراد کو نیزوں اور تلواروں کے ہمراہ ان کا سامنا کرے اور پھر تم نے اسے یہ بھی لکھا کہ وہ یہ کام جلدی کرے ، اس میں تاخیر نہ کرے ، یہاں تک کہ تم نے انہیں ( یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ) اور ان کے ساتھ اولاد عبدالمطلب کے نوجوانوں کو قتل کروا دیا ، جو ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ، جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا تھا ، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دیا تھا ، ہم بھی اسی طرح ہیں ، تمہارے بیوقوف اور سخت آباؤ اجداد کی طرح نہیں ہیں جو گدھوں کی طرح کے جگر ( یعنی دل ) رکھتے تھے ، تم یہ بات جانتے ہو کہ وہ ( یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ) بطحاء میں زمانہ قدیم کے اعتبار سے بھی ، اہل بطحاء میں سب سے زیادہ عزت والے تھے ، اور زمانہ جدید کے اعتبار سے بھی ان سب سے زیادہ عزت والے تھے ، تم لوگوں نے حرمین کی بے حرمتی کی ، وہاں قتل و غارتگری کو حلال قرار دیا ، لیکن انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ ایسے فرد بن جائیں ، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حرم ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم اور بیت الحرام کی حرمت کو نقصان پہنچے ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ کہا: انہیں جانے دیا جائے ، انہوں نے تم سے واپسی کے لئے کہا: ، لیکن تم نے اُن کے مددگاروں کے کم ہونے کو غنیمت سمجھا اور ان کے گھرانے کے افراد کو یوں ختم کر دیا ، جیسے تم ترکوں یا کابل کے کسی گھرانے کے افراد کو قتل کرتے ہو ۔ تم مجھ سے کیسے اپنے لئے محبت پا سکتے ہو اور کیسے میری مدد مانگ سکتے ہو ؟ جبکہ تم نے میرے باپ کی اولاد کو قتل کیا ہے ، تمہاری تلوار سے میرے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، اور تم میرا ساتھ چاہتے ہو ؟ اگر اللہ نے چاہا ، تو میرا خون رائیگاں نہیں جائے گا ، اور اس کا بدلہ ضرور لیا جائے گا ، اور اگر اُس کا بدلہ نہ لیا جا سکا ، تو ہم اس چیز کو قبول کر لیں گے کہ انبیاء کرام اور انبیاء کی آل کو بھی شہید کیا گیا تھا ، اُن کے قتل کا بھی حساب مانگا گیا ، بہرحال اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو ہے ( یعنی ایک دن وہ سب سے حساب لے گا ) مظلوموں کے لیے مددگار ہونے ، اور ظالموں سے انتقام لینے والے کے طور پر ، اللہ تعالیٰ کافی ہے ، حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ جب تک تم زندہ رہو گے ، زمانہ تمہیں حیران کن چیزیں دکھاتا رہے گا ، جناب عبدالمطلب کے خاندان کی بیٹیاں اور اُن کے خاندان کے کم سن بچے تمہارے پاس شام لے جائے گئے ، تاکہ تم لوگوں کو یہ دکھا سکو کہ تم نے ہم پر غلبہ پا لیا ہے ، اور تم نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے ، حالانکہ اللہ کی قسم ! اُن لوگوں کی وجہ سے اور میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر ، تمہارے باپ پر اور تمہاری ماں پر احسان کیا ۔ اللہ کی قسم ! تم ایسی حالت میں صبح اور شام کرتے ہو کہ تم میرے ہاتھوں زخمی ہونے سے محفوظ ہوتے ہو ، لیکن میری زبان میرے پوروں ( یعنی لکھنے ) اور میرے نقض و ابرام ( یا خاموشی ) کے حوالے سے لگنے والا ، تمہارا زخم بڑا ہوتا جائے گا ، لڑائی تمہیں کامیاب نہیں کر سکے گی ، اور تمہارے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت کو قتل کرنے کے بعد ، اللہ تعالیٰ تمہیں تھوڑی مہلت ہی دے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک گرفت میں لے گا ، اور وہ تمہیں ایسی حالت میں دنیا سے لے جائے گا کہ تم قابل مذمت اور گناہ گار ہو گے ، تو تمہارا باپ نہ رہے ، تم جیسے چاہتے ہو زندہ رہو ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں اس چیز نے بے حیثیت کر دیا ہے ، جس کا تم نے ارتکاب کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب یزید نے یہ مکتوب پڑھا ، تو وہ بولا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ” شر “ کو نصب کرنے والے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12082
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10590)»
حدیث نمبر: 12083
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا مَاتَ مُعَاوِيَةُ تَثَاقَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ طَاعَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَأَظْهَرَ شَتْمَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ يَزِيدَ ، فَأَقْسَمَ لَا يُؤْتَى بِهِ إِلَّا مَغْلُولًا ، وَإِلَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِ . فَقِيلَ لِابْنِ الزُّبَيْرِ : أَلَا نَصْنَعُ لَكَ أَغْلَالًا مِنْ فِضَّةٍ تَلْبَسُ عَلَيْهَا الثَّوْبَ ، وَتَبَرُّ قَسَمَهُ ، فَالصُّلْحُ أَجْمَلُ بِكَ ، قَالَ : فَلَا أَبَرَّ اللَّهُ قَسَمَهُ ، ثُمَّ قَالَ : ¤ وَلَا أَلِينُ لِغَيْرِ الْحَقِّ أَسْأَلُهُ حَتَّى يَلِينَ لِضِرْسِ الْمَاضِغِ الْحَجَرُ . ¤ ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ لَضَرْبَةٌ بِسَيْفٍ فِي عِزٍّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ضَرْبَةٍ بِسَوْطٍ فِي ذُلٍّ . ثُمَّ دَعَا إِلَى نَفْسِهِ ، وَأَظْهَرَ الْخِلَافَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ . فَوَجَّهَ إِلَيْهِ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ فِي جَيْشِ أَهْلِ الشَّامِ ، وَأَمَرَهُ بِقِتَالِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ ذَلِكَ سَارَ إِلَى مَكَّةَ . ¤ قَالَ : فَدَخَلَ مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ الْمَدِينَةَ ، وَهَرَبَ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ بَقَايَا أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَبَثَ فِيهَا ، وَأَسْرَفَ فِي الْقَتْلِ ، ثُمَّ خَرَجَ مِنْهَا . فَلَمَّا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَاتَ وَاسْتَخْلَفَ حُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ الْكِنْدِيَّ ، وَقَالَ : يَا ابْنَ بَرْدَعَةِ الْحِمَارِ ، احْذَرْ خَدَائِعَ قُرَيْشٍ ، وَلَا تُعَامِلْهُمْ إِلَّا بِالثِّقَافِ ثُمَّ بِالْقِطَافِ . فَمَضَى حُصَيْنٌ حَتَّى وَرَدَ مَكَّةَ ، فَقَاتَلَ بِهَا ابْنَ الزُّبَيْرِ أَيَّامًا ، وَضَرَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فُسْطَاطًا فِي الْمَسْجِدِ ، فَكَانَ فِيهِ نِسَاءٌ يَسْقِينَ الْجَرْحَى وَيُدَاوِينَهُمْ ، وَيُطْعِمْنَ الْجَائِعَ ، وَيَكْتُمْنَ إِلَيْهِمُ الْمَجْرُوحَ . ¤ فَقَالَ حُصَيْنٌ : مَا يَزَالُ يَخْرُجُ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ الْفُسْطَاطِ أَسَدٌ كَأَنَّمَا يَخْرُجُ مِنْ عَرِينِهِ ، فَمَنْ يَكْفِينِيهِ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ : أَنَا . فَلَمَّا جَنَّ اللَّيْلُ وَضَعَ شَمْعَةً فِي طَرَفِ رُمْحِهِ ، ثُمَّ ضَرَبَ فَرَسَهُ ، ثُمَّ طَعَنَ الْفُسْطَاطَ فَالْتَهَبَ نَارًا ، وَالْكَعْبَةُ يَوْمَئِذٍ مُؤَزِّرَةٌ بِالطَّنَافِسِ ، وَعَلَى أَعْلَاهَا الْحِبَرَةُ ، فَطَارَتِ الرِّيحُ بِاللَّهَبِ عَلَى الْكَعْبَةِ حَتَّى احْتَرَقَتْ ، فَاحْتَرَقَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ قَرْنَا الْكَبْشِ الَّذِي فُدِيَ بِهِ إِسْحَاقُ . قَالَ : وَبَلَغَ حُصَيْنَ بْنَ نُمَيْرٍ مَوْتُ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَهَرَبَ حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ . فَلَمَّا مَاتَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ دَعَا مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ إِلَى نَفْسِهِ ، فَأَجَابَهُ أَهْلُ حِمْصَ وَأَهْلُ الْأُرْدُنِ وَفِلَسْطِينَ . فَوَجَّهَ إِلَيْهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ الْفِهْرِيَّ فِي مِائَةِ أَلْفٍ ، فَالْتَقَوْا بِمَرْجِ رَاهِطَ ، وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ فِي خَمْسَةِ آلَافٍ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ وَمَوَالِيهِمْ وَأَتْبَاعِهِمْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِمَوْلًى لَهُ يُقَالُ لَهُ كِدَةُ : احْمِلْ عَلَى أَيِّ الطَّرَفَيْنِ شِئْتَ . فَقَالَ : كَيْفَ أَحْمِلُ عَلَى هَؤُلَاءِ لِكَثْرَتِهِمْ ؟ قَالَ : هُمْ بَيْنَ مُكْرَهٍ وَمُسْتَأْجَرٍ ، احْمِلْ عَلَيْهِمْ لَا أُمَّ لَكَ ، فَيَكْفِيكَ الطِّعَانُ النَّاصِعُ هُمْ يَكْفُونَكَ أَنْفُسَهُمْ ، إِنَّمَا هَؤُلَاءِ عَبِيدُ الدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ . فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ فَهَزَّهُمْ ، وَقُتِلَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ ، وَانْصَدَعَ الْجَيْشُ . فَفِي ذَلِكَ يَقُولُ زُفَرُ : ¤ لَقَدْ أَبْقَتْ وَقِيعَةُ رَاهِطَ لِمَرْوَانَ صَرْعَى بَيْنَنَا مُتَنَائِيَا أَتَنْسَى سِلَاحِي لَا أَبَا لَكَ إِنَّنِي أَرَى الْحَرْبَ لَا تَزْدَادُ إِلَّا تَمَادِيَا ¤ وَقَدْ يَنْبُتُ الْمَرْعَى عَلَى دِمَنِ الثَّرَى وَتَبْقَى حَزَازَاتُ النُّفُوسِ كَمَا هِيَا . ¤ وَفِيهِ يَقُولُ أَيْضًا : ¤ أَفِي الْحَقِّ أَمَّا بَحْدَلٌ وَابْنُ بَحْدَلٍ فَيَحْيَا وَأَمَّا ابْنُ الزُّبَيْرِ فَيُقْتَلُ كَذَبْتُمْ وَبَيْتِ اللَّهِ لَا ¤ تَقْتُلُونَهُ وَلَمَّا يَكُنْ يَوْمٌ أَغَرُّ مُحَجَّلُ وَلَمَّا يَكُنْ لِلْمَشْرَفِيَّةِ فِيكُمُ شُعَاعٌ كَنُورِ الشَّمْسِ حِينَ تَرَحَّلُ ¤ . ¤ قَالَ : ثُمَّ مَاتَ مَرْوَانُ ، وَدَعَا عَبْدُ الْمَلِكِ لِنَفْسِهِ ، وَقَامَ فَأَجَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ ، فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَالَ : مَنْ لِابْنِ الزُّبَيْرِ مِنْكُمْ ؟ فَقَالَ الْحَجَّاجُ : أَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَأَسْكَتَهُ ، ثُمَّ عَادَ ، فَأَسْكَتَهُ ، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ : أَنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَإِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي انْتَزَعْتُ جُبَّتَهُ فَلَبِسْتُهَا . فَعَقَدَ لَهُ فِي الْجَيْشِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى وَرَدَهَا عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَقَاتَلَهُ بِهَا . فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَأَهْلِ مَكَّةَ : احْفَظُوا هَذَيْنِ الْجَبَلَيْنِ ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ أَعِزَّةً مَا لَمْ يَظْهَرُوا عَلَيْهِمَا . فَلَمْ يَلْبَسُوا أَنْ ظَهْرَ الْحَجَّاجُ وَمَنْ مَعَهُ عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ ، وَنَصَبَ عَلَيْهِ الْمَنْجَنِيقَ ، فَكَانَ يَرْمِي بِهِ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ . فَلَمَّا كَانَتِ الْغَدَاةُ الَّتِي قُتِلَ فِيهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ ، دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ مِائَةِ سَنَةٍ لَمْ يَسْقُطْ لَهَا سِنٌّ وَلَمْ يُفْقَدْ لَهَا بَصَرٌ ، فَقَالَتْ لِابْنِهَا : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا فَعَلْتَ فِي حِزْبِكَ ؟ قَالَ : بَلَغُوا مَكَانَ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : وَضَحِكَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ : إِنَّ فِي الْمَوْتِ لَرَاحَةً . قَالَتْ : يَا بُنَيَّ ، لَعَلَّكَ تَتَمَنَّاهُ لِي ؟ مَا أُحِبُّ أَنْ أَمُوتَ حَتَّى آتِيَ عَلَى أَحَدِ طَرَفَيْكَ ، إِمَّا أَنْ تَمْلِكَ فَتَقَرَّ بِذَلِكَ عَيْنِي ، وَإِمَّا أَنْ تُقْتَلَ فَأَحْتَسِبَكَ . قَالَ : ثُمَّ وَدَّعَهَا . قَالَتْ لَهُ : يَا بُنَيَّ ، إِيَّاكَ أَنْ تُعْطِيَ خَصْلَةً مِنْ دِينِكَ مَخَافَةَ الْقَتْلِ . ¤ وَخَرَجَ عَنْهَا ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ ، وَقَدْ جَعَلَ مِصْرَاعَيْنِ عَلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ يَتَّقِي بِهِمَا أَنْ يُصِيبَهُ الْمَنْجَنِيقُ ، وَأَتَى ابْنَ الزُّبَيْرِ آتٍ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَالَ : أَلَا نَفْتَحُ لَكَ بَابَ الْكَعْبَةِ فَتَصْعَدُ فِيهَا ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لَهُ : مِنْ كُلِّ شَيْءٍ تَحْفَظُ أَخَاكَ إِلَّا مِنْ نَفْسِهِ - يَعْنِي أَجَلَهُ - وَهَلْ لِلْكَعْبَةِ حُرْمَةٌ لَيْسَتْ لِهَذَا الْمَكَانِ ؟ وَاللَّهِ لَوْ وَجَدُوكُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ لَقَتَلُوكُمْ . فَقِيلَ لَهُ : أَلَا تُكَلِّمُهُمْ فِي الصُّلْحِ ؟ قَالَ : أَوَحِينَ صُلْحٍ هَذَا ؟ وَاللَّهِ لَوْ وَجَدُوكُمْ فِيهَا لَذَبَحُوكُمْ جَمِيعًا ، وَأَنْشَدَ يَقُولُ : ¤ وَلَسْتُ بِمُبْتَاعِ الْحَيَاةِ بِسَبَّةٍ وَلَا مُرْتَقٍ مِنْ خَشْيَةِ الْمَوْتِ سُلَّمَا أُنَافِسُ سَهْمًا إِنَّهُ غَيْرُ بَارِحٍ مُلَاقِي الْمَنَايَا أَيَّ حَرْفٍ تَيَمَّمَا ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى آلِ الزُّبَيْرِ يَعِظُهُمْ وَيَقُولُ : لِيُكِنَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ كَمَا يُكِنُّ وَجْهَهُ لَا يَنْكَسِرُ ، فَيَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهِ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ امْرَأَةٌ ، وَاللَّهِ مَا لَقِيتُ زَحْفًا قَطُّ إِلَّا فِي الرَّعِيلِ الْأَوَّلِ ، وَلَا أَلَمْتُ جُرْحًا قَطُّ إِلَّا أَنْ أَلَمَ الدَّوَاءَ . ¤ قَالَ : فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ بَابِ بَنِي جُمَحَ فِيهِمْ أَسْوَدُ ، قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : أَهْلُ حِمْصَ . فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ وَمَعَهُ سَيْفَانِ فَأَوَّلُ مَنْ لَقِيَهُ الْأَسْوَدُ فَضَرَبَهُ بِسَيْفِهِ حَتَّى أَطَنَّ رِجْلَهُ ، فَقَالَ لَهُ الْأَسْوَدُ : أَخْ يَا ابْنَ الزَّانِيَةِ . فَقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ : اخْسَأْ يَا ابْنَ حَامٍ أَسْمَاءُ زَانِيَةٌ ؟ ثُمَّ أَخْرَجَهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ ، وَانْصَرَفَ ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ دَخَلُوا مِنْ بَابِ بَنِي سَهْمٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : أَهْلُ الْأُرْدُنَ . فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ لَا عَهْدَ لِي بِغَارَةٍ مِثْلِ السَّيْلِ لَا يَنْجَلِي غُبَارُهَا حَتَّى اللَّيْلِ . ¤ فَأَخْرَجَهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا بِقَوْمٍ قَدْ دَخَلُوا مِنْ بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ . فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ لَوْ كَانَ قَرْنِي وَاحِدًا كَفَيْتُهُ ¤ قَالَ : وَعَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَعْوَانِهِ مَنْ يَرْمِي عَدُوَّهُ بِالْآجُرِّ وَغَيْرِهِ ، فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ ، فَأَصَابَتْهُ آجُرَّةٌ فِي مَفْرِقِهِ حَتَّى فَلَقَتْ رَأْسَهُ ، فَوَقَفَ وَهُوَ يَقُولُ : وَلَسْنَا عَلَى الْأَعْقَابِ تُدْمَى كُلُومُنَا وَلَكِنْ عَلَى أَقْدَامِنَا تَقْطُرُ الدَّمَا ¤ . ¤ قَالَ : ثُمَّ وَقَعَ ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ مَوْلَيَانِ لَهُ وَهُمَا يَقُولَانِ : ¤ الْعَبْدُ يَحْمِي رَبَّهُ وَيَحْتَمِي ¤ قَالَ : ثُمَّ سُيِّرَ إِلَيْهِ فَحَزَّ رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یزید بن معاویہ کی اطاعت کرنے میں تاخیر کی اور اسے برا بھلا کہنے لگے ، یزید کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو اُس نے قسم اٹھائی کہ انہیں اس کے پاس باندھ کر لایا جائے گا ، ورنہ وہ اُن کی طرف لشکر بھیج دے گا ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے یہ کہا: گیا : ہم ایسا کرتے ہیں ، آپ کے لئے چاندی کی بیڑی بنوا لیتے ہیں ، جس پر آپ کپڑے پہن لیجیے گا اور یوں آپ اُس کی قسم پوری کروا دیں ، کیونکہ صلح کر لینا آپ کے لئے زیادہ مناسب ہے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری نہیں کروائے گا ، پھر انہوں نے یہ شعر پڑھا : ” میں ناحق چیز کے لئے ، جس کا میں مطالبہ کروں ، اس کے لئے اس وقت تک کمزور نہیں ہوؤں گا ، جب تک چبانے والے شخص کی داڑھ کے لیے پتھر کمزور نہیں ہوتا ۔ “ پھر انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! عزت کی حالت میں تلوار کی ضرب لگ جائے ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گی کہ ذلت کے عالم میں کوڑے کی ضرب لگ جائے ، پھر انہوں نے اپنی خلافت کا دعوی کر دیا ، اور کھلے عام یزید بن معاویہ کی مخالفت کی ، یزید بن معاویہ نے مسلم بن عقبہ مری کو اہل شام کے لشکر کے ہمراہ ان کی طرف بھیجا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ اہل مدینہ کے ساتھ جنگ کرے ، جب وہ اُن سے فارغ ہو جائے تو وہ مکہ کی طرف چلا جائے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب مسلم بن عقبہ ، مدینہ میں داخل ہوا ، تو وہاں باقی رہ جانے والے صحابہ کرام اُس جگہ کو چھوڑ کر چلے گئے ۔ مسلم بن عقبہ نے وہاں بہت سی زیادتیاں کیں ، بہت زیادہ قتل و غارتگری کی ، پھر وہ وہاں سے چلا گیا ، راستے میں ایک جگہ پر وہ مر گیا ، اس نے حصین بن نمیر کندی کو اپنا جانشین مقرر کیا اور بولا: اے گدھے کی زین کے بیٹے ! تم قریش کے دھوکوں سے بچ کے رہنا ، اور ان کے ساتھ صرف ہتھیاروں کی بنیاد پر معاملہ کرنا ، پھر پھل توڑنے کا معاملہ کرنا ، حصین روانہ ہوا ، یہاں تک کہ وہ مکہ آ گیا ، وہاں اس نے چند دنوں تک سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جنگ کی ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مسجد میں ایک خیمہ لگایا ہوا تھا ، جس میں خواتین زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں ، اور ان کو دوا دیتی تھیں ، وہ بھوکے افراد کے لیے کھانا تیار کرتی تھیں ، زخمی لوگ ان کے پاس آ کر چھپ جاتے تھے ، حصین نے کہا: اس خیمے میں سے ہمیشہ ایک شیر نکل کر ہمارے سامنے آتا ہے ، یوں جیسے شیر اپنی کچھار سے نکلتا ہے ، تو تم میں سے کون اس پر ق ابوپائے گا ؟ اہل شام سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: میں ایسا کروں گا ، جب رات تاریک ہو گئی تو اس نے اپنے نیزے کے کنارے پر ایک شمع رکھی اور پھر اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور پھر وہ نیزہ اس خیمے میں مار دیا تو آگ بھڑک اٹھی ، اس دور میں خانہ کعبہ پر مختلف قسم کے کپڑے ڈالے جاتے تھے اور ان پر یمنی چادر ہوتی تھی ، ہوا کی وجہ سے وہ آگ خانہ کعبہ تک پہنچ گئی اور وہ جلنے لگا ، اس آگ کی وجہ سے اُس دنبے کے دو سینگ بھی جل گئے ، جو سیدنا اسحاق علیہ السلام کے فدیے کے طور پر دیے گئے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران حصین بن نمیر کو یہ اطلاع ملی کہ یزید بن معاویہ مر گیا ہے ، تو وہ یہ لڑائی چھوڑ کر واپس چلا گیا ۔ یزید بن معاویہ کے مرنے کے بعد مروان بن حکم نے اپنی خلافت کا دعویٰ کر دیا ، حمص کے رہنے والے لوگوں نے اس کی بات کو قبول کر لیا ، اردن اور فلسطین کے لوگوں نے بھی یہ بات مان لی ، تو اس نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف ضحاک بن قیس فہری کو ایک لاکھ کے لشکر کے ہمراہ بھیجا ” مرج راہط“ کے مقام پر دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا ، اس وقت مروان بنو امیہ ان کے موالی اور اہل شام سے تعلق رکھنے والے ان کے پیروکار پانچ ہزار افراد میں موجود تھا ، مروان نے ” کدہ“ نامی اپنے ایک غلام سے کہا: تم دونوں اطراف میں سے جس طرف سے چاہو حملہ کر دو ، اس نے کہا: میں کیسے ان پر حملہ کروں ، ان کی تعداد زیادہ ہے ، مروان نے کہا: ان میں سے کچھ لوگ زبردستی آئے ہیں ، کچھ پیسے کے عوض میں آئے ہیں ، تمہاری ماں نہ رہے ، تم ان پر حملہ کرو ، واضح وار تمہارے لئے کافی ہو گا ، یہ لوگ اپنا بچاؤ خود ہی کر لیں گے ، یہ دینار اور درہم کے بندے ہیں ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان لوگوں پر حملہ کر کے انہیں پسپا کر دیا ، ضحاک بن قیس قتل ہو گیا ، اور وہ لشکر بکھر گیا ۔ اس صورتحال کے بارے میں زفر نے یہ اشعار کہے ہیں : ” میری عمر کی قسم ہے ، راہط کے واقعہ نے مروان کے لیے یہ صورت حال چھوڑی ہے کہ ہمارے درمیان پچھاڑے ہوئے لوگ دور دور پڑے ہیں ، کیا تم میرا ہتھیار بھول گئے ، تمہارا باپ نہ رہے ، میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنگ صرف نقصان میں ہی اضافہ کرتی ہے ، زمین کا سینہ چیرنے سے نباتات اگ آتے ہیں ، لیکن لوگوں کا نقصان ( یعنی مارا جانا ) اسی طرح باقی رہ جاتا ہے جیسے وہ پہلے تھا ۔ “ اور اس نے اس بارے میں یہ بھی کہا: ہے : ” کیا یہ ہو گا کہ حق کے بارے میں ایک سست رفتار شخص ، جو ایک سست رفتار کا بیٹا ہے ، وہ زندہ رہے گا اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما قتل کر دیے جائیں گے ، تم لوگ جھوٹ بولتے ہو ، بیت اللہ کی قسم ! اگر تم نے انہیں قتل کر دیا تو دن روشن و چمکدار نہیں رہے گا ، اور پھر تمہارے درمیان بزرگی صرف یوں رہ جائے گی ، جیسے غروب ہونے کے وقت سورج کی شعاع بالکل ہلکی ہو چکی ہوتی ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب مروان مر گیا ، تو عبدالملک نے خلافت کا دعویٰ کر دیا وہ کھڑا ہوا ، تو اہل شام نے اس کی بات مان لی ، اس نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ کہا: تم میں سے کون ابن زبیر پر ق ابوپائے گا ؟ تو حجاج نے کہا: امیر المؤمنین ! میں ایسا کروں گا ، عبدالملک نے اسے خاموش کروا دیا ، پھر دوبارہ ایسا ہی ہوا ، تو اس نے پھر خاموش کروا دیا ، پھر ایسا ہی ہوا ، تو حجاج نے کہا: امیر المؤمنین میں ایسا کروں گا ، کیونکہ میں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ میں نے اُن کا جبہ اُتار کے اسے پہن لیا ہے ، تو عبدالملک نے حجاج کو لشکر فراہم کیا ، تاکہ وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تک مکہ پہنچے اور ان کے ساتھ وہاں جنگ کرے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اہل مکہ سے کہا: تم لوگ ان دو پہاڑوں کی حفاظت کرنا ، کیونکہ تم لوگ اس وقت تک بھلائی کے ساتھ رہو گے اور غالب رہو گے ، جب تک دشمن ان دو پہاڑوں کی طرف سے ظاہر نہیں ہوتا ، تو یہ صورتحال ہوئی کہ حجاج اور اس کے ساتھی افراد جبل ابوقبیس پر نہ آ سکے ، حجاج نے ان کے لئے منجنیق نصب کروائیں ، وہ ان کے ذریعے گولے پھینکتا رہا ، وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور مسجد میں ان کے ساتھ موجود لوگوں پر سنگ باری کرتا رہا ، جس دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما شہید ہوئے ، اُس دن کی صبح وہ اپنی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، جو اس وقت ایک سو سال کی ہو چکی تھیں ، اور نہ تو ان کا کوئی دانت گرا تھا ، اور نہ ہی ان کی بینائی متاثر ہوئی تھی ، انہوں نے اپنے صاحبزادے سے دریافت کیا : عبداللہ تمہارے ( دشمن ) لشکر کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے بتایا : کہ وہ فلاں فلاں جگہ تک پہنچ گئے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہنس پڑے اور بولے : موت میں آرام ہے ، سیدہ اسماء ہیرضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! شاید تم میری وجہ سے اس کی آرزو کر رہے ہو ، مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں مر جاؤں ، یہاں تک کہ وہ تمہارے دو اطراف میں سے کسی ایک پر آئے ، اگر تم حکمران بن جاتے ہو ، تو اس کے ذریعے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی ، اور اگر تم شہید ہو جاتے ہو ، تو میں تمہارے حوالے سے ثواب کی امید رکھوں گی ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے اپنی والدہ کو رخصت کیا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم اس چیز سے بچنا کہ تم قتل کے خوف کی وجہ سے اپنے دین میں سے کوئی چیز چھوڑ دو ! سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اس خاتون کے پاس سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، انہوں نے دو مصراع ، حجر اسود پر رکھے ہوئے تھے اور ان دونوں کے ذریعے وہ اس بات سے بچ جاتے تھے ، منجنیق کا گولا انہیں نقصان پہنچائے ، جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما آئے تو وہ حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا ہم آپ کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ کھول دیں ، تاکہ آپ چڑھ کر اس کے اندر چلے جائیں ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف دیکھا اور پھر ان سے فرمایا : تم اپنے بھائی کی ہر چیز کے حوالے سے حفاظت کر سکتے ہو ، لیکن موت کے حوالے سے نہیں کر سکتے ، کیا خانہ کعبہ کی حرمت نہیں ہے ؟ کیا وہ حرمت اس جگہ کی نہیں ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ تمہیں خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہوا بھی پائیں گے ، تو بھی وہ تمہیں قتل کر دیں گے ، اُن سے کہا: گیا : پھر آپ ان کے ساتھ صلح کے بارے میں بات چیت کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے فرمایا : کیا یہ صلح کا وقت ہے ؟ اللہ کی قسم ! اگر وہ لوگ تمہیں پائیں گے ، تو تم سب کو ذبح کر دیں گے ، انہوں نے یہ شعر سنائے : ” میں کسی عار کی وجہ سے زندگی خریدنے والا نہیں ہوں ، اور نہ ہی موت کے خوف کی وجہ سے کوئی سیڑھی چڑھنے والا ہوں ، میں تیر کے ساتھ مقابلہ کروں گا ، وہ چھوڑنے والا نہیں ہے ، اور موت سے مل جاؤں گا ، کہ اس نے کون سے کنارے کا قصد کیا ہے ۔ “ پھر وہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے خاندان کے افراد کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں وعظ و نصیحت کرتے ہوئے یہ کہنے لگے : تم میں سے ہر ایک شخص اپنی تلوار کو یوں بچا کے رکھے ، جس طرح وہ اپنے چہرے کو بچاتا ہے ، ایسا نہ ہو کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے اور پھر اسے اپنے ہاتھ کے ذریعے اپنے اوپر حملہ روکنا پڑے ، جیسے وہ کوئی عورت ہوتی ہے ، اللہ کی قسم ! میں نے گھسٹنے کا سامنا صرف پہلے والی تھوڑی سی جماعت میں کیا ہے ، اور میں نے زخم کی تکلیف صرف اس وقت محسوس کی جب اس پر دوا لگائی گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران بنو جمح کے دروازے کی طرف سے کچھ لوگ ان کے پاس آئے ، ان میں اسود بھی تھا ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا گیا : یہ حمص کے رہنے والے لوگ ہیں ، وہ ان پر حملہ کرنے کے لئے گئے ، ان کے پاس دو تلواریں تھیں ، سب سے پہلے ان کے مقابلے میں اسود آیا ، انہوں نے اس پر تلوار کے ذریعے حملہ کر کے اسے زخمی کر دیا ، تو اسود نے ان سے کہا: پرے ہو جاؤ ! اے زنا کرنے والی عورت کے بیٹے ! سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اُس سے کہا: تم پرے ہو جاؤ ! اے حمایتی کے بیٹے ! کیا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا زنا کرنے والی ہیں ؟ پھر انہوں نے ان لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور واپس آ گئے ، تو یہ صورتحال پائی کہ کچھ لوگ بنو سہم والے دروازے کی طرف سے اندر آ چکے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انھیں بتایا گیا : یہ اردن کے رہنے والے ہیں ، تو انہوں نے ان پر حملہ کیا اور وہ اس وقت یہ شعر پڑھ رہے تھے : ” مجھے ایسے حملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، جو سیلاب کی مانند ہے ، جس کا غبار رات ہونے تک نہیں چھٹے گا ۔ “ انہوں نے ان لوگوں کو بھی مسجد سے نکال دیا ، تو کچھ لوگ بنو مخزوم کی طرف والے دروازے سے آ گئے ، انہوں نے ان لوگوں پر حملہ کیا اور وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے : ” اگر میرا ایک قرن ( تلوار یا سینگ ) ہوتا ، تو ان کے مقابلے میں میری کفایت ہو جانی تھی ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : مسجد کی چھت پر ان کے کچھ مددگار تھے ، جو دشمن پر اینٹیں مار رہے تھے ، انہوں نے ان دشمنوں پر حملہ کیا ، اسی دوران ایک اینٹ اُن کی مانگ پر آ کر لگی ، جس نے ان کے سر کو پھاڑ دیا ، وہ رک گئے اور یہ شعر پڑھنے لگے : ” ہم وہ نہیں ہیں کہ ہماری ایڑیوں پر ہمارے زخموں سے خون نکل رہا ہو ، بلکہ مارے قدموں پر خون کے قطرے ٹپکتے ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر وہ گر گئے ، اُن کے دو غلام اُن پر جھک گئے اور وہ دونوں یہ شعر پڑھ رہے تھے : ” ایک ایسا بندہ جو اپنے پروردگار ( کے دین کا ) دفاع کر رہا تھا اور وہ خود بچاؤ کا طلب گار تھا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ان کے جسم کو دشمن کی طرف لے جایا گیا ، تو اُس نے ان کا سر کٹوا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالرحمن ذماری ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اُسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12083
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12084
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : مَا شَيْءٌ كَانَ يُحَدِّثُنَاهُ كَعْبٌ إِلَّا قَدْ آتَى عَلَيَّ مَا قَالَ ، إِلَّا قَوْلُهُ : فَتَى ثَقِيفٍ يَقْتُلُنِي ، وَهَذَا رَأْسُهُ بَيْنَ يَدِي - يَعْنِي الْمُخْتَارَ . قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : وَلَا يَشْعُرُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ قَدْ خُبِّئَ لَهُ - يَعْنِي الْحَجَّاجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی کہ کعب نے ہمیں جو بات بھی بتائی تھی ، تو وہ بات میرے حوالے سے ، اُن کے کہے ہوئے کے مطابق پوری ثابت ہوئی ، البتہ ان کی یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ ثقیف قبیلے کا ایک نوجوان مجھے قتل کرے گا ، حالانکہ اس کا سر میرے سامنے موجود ہے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی مراد مختار ثقفی تھا ۔ ابن سیرین بیان کرتے ہیں : انہیں یہ اندازہ نہیں ہو پایا کہ ان کے لئے ابومحمد کو تیار رکھا گیا ہے ، ابن سیرین کی مراد حجاج بن یوسف تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12084
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 12085
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : أَنَا حَاضِرٌ قَتْلَ ابْنِ الزُّبَيْرِ يَوْمَ قُتِلَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، جُعِلَتِ الْجُيُوشُ تَدْخُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَكُلَّمَا دَخَلَ قَوْمٌ مِنْ بَابٍ حَمَلَ عَلَيْهِمْ وَحْدَهُ حَتَّى يُخْرِجَهُمْ ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ إِذْ جَاءَتْ شُرْفَةٌ مِنْ شُرُفَاتِ الْمَسْجِدِ فَوَقَعَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَصَرَعَتْهُ ، وَهُوَ يَتَمَثَّلُ بِهَذِهِ الْأَبْيَاتِ : ¤ تَقُولُ أَسْمَاءُ : أَلَا تُبْكِينِي لَمْ يَبْقَ إِلَّا حَسَبِي وَدِينِي وَصَارِمٍ لَانَتْ بِهِ يَمِينِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
اسحاق بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیے جانے کے وقت وہاں موجود تھا ، یہ اس دن کی بات ہے جب انہیں مسجد حرام میں قتل کیا گیا ، دشمن کے سپاہی مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوتے تھے ، جب بھی کچھ لوگ کسی دروازے سے داخل ہوتے تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اکیلے ان پر حملہ کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں باہر نکلنے پر مجبور کر دیتے تھے ، ابھی وہ یہی کچھ کر رہے تھے کہ اسی دوران مسجد کا ایک اوپری حصہ آیا اور ان کے سر پر گرا ، اس نے انہیں گرا دیا ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا یہ کہتی ہیں : تم مجھے نہ رلاؤ ، صرف میرا حسب اور میرا دین باقی رہ گیا ہے ، اور مضبوط شخص نے میرا دایاں ہاتھ کمزور کر دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12086
وَعَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ الْعَرْنَجِيِّ قَالَ : صَلَبَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ لِيُرِيَ ذَلِكَ قُرَيْشًا ، فَلَمَّا أَنْ تَفَرَّقُوا جَعَلُوا يَمُرُّونَ فَلَا يَقِفُونَ عَلَيْهِ ، حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خَبِيبٍ - لَقَدْ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكَ عَنْ ذَا - قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ كُنْتَ صَوَّامًا قَوَّامًا ، تَصِلُ الرَّحِمَ . فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ ، فَاسْتَنْزَلَهُ ، فَرَمَى بِهِ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ، وَبَعَثَ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ تَأْتِيَهُ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا ، فَأَبَتْ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا : لَتَجِيئِنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ . قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، لَا آتِيكَ حَتَّى تُرْسِلَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي . فَأَتَاهُ رَسُولُهُ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا غُلَامُ ، نَاوِلْنِي سَبْتَيَّ ، فَنَاوَلَهُ نَعْلَيْهِ ، فَقَامَ وَهُوَ يَتَّقِدُ حَتَّى أَتَاهَا ، فَقَالَ : كَيْفَ رَأَيْتِ اللَّهَ صَنَعَ بِعَدُوِّ اللَّهِ ؟ قَالَتْ : رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ ، وَأَمَّا مَا كُنْتَ تُعَيِّرُهُ بِذَاتِ النِّطَاقَيْنِ ، أَجَلْ ، لَقَدْ كَانَ لِي نِطَاقَانِ ، نِطَاقٌ أُغَطِّي بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النَّمْلِ ، وَنِطَاقٌ آخَرُ لَا بُدَّ لِلنِّسَاءِ مِنْهُ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي ثَقِيفٍ مُبِيرًا وَكَذَّابًا " . فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ ذَاكَ . قَالَ : فَخَرَجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابونوفل بن ابوعقرب عرنجی بیان کرتے ہیں : حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مدینہ کی گھاٹی پر مصلوب کیا تھا ، تاکہ یہ چیز قریش کو دکھا دے ، جب وہ لوگ منتشر ہو گئے تو ان کے پاس سے گزرنے لگے ، وہ ان کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے ، یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گزرے تو وہ وہاں ٹھہر گئے ، اور انہوں نے کہا: اے ابوخبیب ! تم پر سلام ہو ، یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے اور پھر فرمایا : میں تمہیں اس بات سے منع کیا کرتا تھا ، یہ کلمات بھی انہوں نے تین مرتبہ کہے ، تم روزہ دار تھے ، نماز پڑھنے والے تھے ، صلہ رحمی کرنے والے تھے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کے بارے میں حجاج کو اطلاع ملی ، تو اس نے حکم دیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی میت کو اتارا گیا اور یہودیوں کے قبرستان میں ڈال دیا گیا ، پھر حجاج نے سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئیں ، اس خاتون کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، اس خاتون نے آنے سے انکار کر دیا ، تو حجاج نے انہیں پیغام بھیجا کہ یا تو آپ آئیں گی یا میں آپ کی طرف اس شخص کو بھیجوں گا ، جو آپ کے بالوں سے پکڑ کر آپ کو لے کر آئے گا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم میں تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آؤں گی ، جب تک تم میری طرف اس شخص کو نہیں بھیجتے ، جو مجھے بالوں سے پکڑ کر لے جائے ، حجاج کا قاصد اس کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے اپنے خادم سے کہا: اے لڑکے مجھے میرے جوتے پکڑاؤ ! اس نے اسے جوتے پکڑائے ، وہ اُٹھا اور چلتا ہوا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اس نے کہا: آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟ تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم نے اس کی دنیا اس کے لئے خراب کر دی ، اور اس نے تمہاری آخرت تمہارے لئے خراب کر دی ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ تم دو کمر بندوں والی ( کا بیٹا ہونے ) کے حوالے سے اُسے عار دلایا کرتے تھے ، تو یہ بات ٹھیک ہے ، میرے دو کمربند تھے ، ایک کمربند کے ذریعے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کو باندھ دیتی تھی ، تاکہ چیونٹیاں اس تک نہ پہنچیں اور دوسرا کمربند وہ تھا جس کے بغیر چارہ نہیں ہے ، اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے میں ایک خون بہانے والا شخص ہو گا ، اور ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) ہو گا ۔ “ جہاں تک کذاب شخص کا تعلق ہے ، اسے تو ہم نے دیکھ لیا تھا ( یعنی مختار ثقفی تھا ) اور جہاں تک خون بہانے والے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ تم ہو گے ، راوی کہتے ہیں : تو حجاج وہاں سے چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (102/24)»
حدیث نمبر: 12087
وَعَنْ أَبِي الْمُحَيَّاةِ - يَعْنِي الْمُخْتَارَ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَدِمْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا صُلِبَ - أَوْ قُتِلَ - ابْنُ الزُّبَيْرِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَكَلَّمَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الْحَجَّاجَ فَقَالَتْ : أَمَا آنَ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ ؟ قَالَ : الْمُنَافِقُ ؟ قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، مَا كَانَ بِمُنَافِقٍ ، وَلَقَدْ كَانَ صَوَّامًا قَوَّامًا . قَالَ : فَاسْكُتِي ، فَإِنَّكِ عَجُوزٌ قَدْ خَرِفْتِ . قَالَتْ : مَا خَرِفْتُ [ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ " . أَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ - يَعْنِى الْمُخْتَارَ - ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ . ¤ زَادَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : فَقَالَ الْحَجَّاجُ : فِي حَدِيثِهِ : مُبِيرُ الْمُنَافِقِينَ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْمُحَيَّاةِ وَأَبُوهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
ابومحیاۃ ، یعنی مختار اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیے جانے کے جانے کے تین بعد مکہ آیا ، ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے حجاج کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: اب وہ وقت آ گیا ہے کہ یہ سوار نیچے اتر آئے ( یعنی ان کی لاش کو سولی سے اتار دیا جائے ) تو حجاج نے دریافت کیا : منافق کی ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! وہ منافق نہیں تھا بلکہ وہ تو روزہ دار اور نفلی نماز پڑھنے والا شخص تھا ، حجاج نے کہا: تم خاموش رہو تم ایک بوڑھی عورت ہو ، جو خرافات بولتی ہو ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نے کبھی کوئی خرافات بیان نہیں کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” ثقیف قبیلے سے ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) اور ایک خون بہانے والا شخص نکلے گا ۔ “ جہاں تک کذاب کا تعلق ہے ، تو اُسے ہم نے دیکھ لیا ( اس سے مراد مختار ثقفی ہے ) اور جہاں تک خون بہانے والے کا تعلق ہے تو اس سے مراد تم ہو ۔ ابوبکر بن ابوشیبہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : حجاج نے کہا: میں منافقین کا خون بہانے والا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابومحیاۃ اور اس کے والد ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12087
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (101/24)»
حدیث نمبر: 12088
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : جَاءَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ مَعَ جِوَارٍ لَهَا ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا ، فَقَالَتْ : أَيْنَ الْحَجَّاجُ ؟ فَقُلْنَا : لَيْسَ هُوَ هُنَا ، قَالَتْ : فَمُرُوهُ فَلْيَأْمُرْ لَنَا بِهَذِهِ الْعِظَامِ [ فَأِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ ، قُلْنَا إِذَا جَاءَ قُلْنَا لَهُ . قَالَتْ : فِإِذَا جَاءَ فَأَخْبِرُوهُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ فِي ثَقِيفَ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ " ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما اپنی لڑکیوں کے ساتھ آئیں ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : حجاج کہاں ہے ؟ ہم نے کہا: وہ یہاں نہیں ہے ، انہوں نے کہا: تم اسے کہہ دینا کہ وہ یہ ہڈیاں ( یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی میت ) ہمیں دینے کا حکم دیدے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا: جب وہ آئے گا تو ہم اس سے یہ بات کہہ دیں گے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب وہ آئے تو اسے یہ بات بھی بتا دینا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے میں ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) اور ایک خون بہانے والا شخص نکلے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے ، زیادہ تر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12088
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 12089
وَعَنْ عَقِيلِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ مَعَ الْحَجَّاجِ لَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، فَبَعَثَهُ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ : قُلْ لَهَا : يَقُولُ لَكِ الْحَجَّاجُ : اعْزِلِي مَا كَانَ مِنْ مَالٍ عَنْ مَالِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . فَقَالَتْ : افْعَلْهَا يَا ابْنَ أَسْمَاءَ [ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ ثَقِيفٍ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَكْذِِبُ ، وَالْآخَرُ مُبِيرٌ . ¤ فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ وَمَا أَحْسَبُهُ إِلَّا الْمُبِيرُ . فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَلَمْ يَكْرَهْ ذَلِكَ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو زَيْدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْغَمْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں : اُن کے والد حجاج کے ساتھ تھے ، جب اس نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا ، حجاج نے انہیں سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور ان سے کہا: تم اس خاتون سے یہ کہہ دینا کہ حجاج آپ سے یہ کہہ رہا ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا جو مال ہے ، اس کے مال میں سے اپنا مال الگ کر لیں ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا اسماء کے بیٹے نے ایسا کیا ہو گا ، میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے سے دو آدمی نکلیں گے ، جن میں سے ایک جھوٹ بولتا ہو گا ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعوی کرے گا ) اور دوسرا خون بہانے والا ہو گا ۔ “ ( پھر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ) جہاں تک نبوت کے جھوٹے دعویدار کا تعلق ہے تو اسے تو ہم جان چکے ہیں اور خون بہانے والے سے مراد ، میرے خیال میں یہی ( یعنی حجاج بن یوسف ) ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں واپس حجاج کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے اس بات کو ناپسند نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوزید عبدالرحمن بن ابوغمر ہے اور میں اس راوی سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (97/24)»
حدیث نمبر: 12090
وَعَنْ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ : لَمَّا مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَزِيدَ بَايَعَ أَهْلُ الشَّامِ كُلُّهُمُ ابْنَ الزُّبَيْرِ إِلَّا أَهْلَ الْأُرْدُنِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رُؤُوسُ بَنِي أُمَيَّةَ وَنَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَشْرَافِهِمْ ، فِيهِمْ رَوْحُ بْنُ الزِّنْبَاعِ الْجُذَامِيُّ ، قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : إِنَّ الْمُلْكَ كَانَ فِينَا أَهْلَ الشَّامِ فَيَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِ الْحِجَازِ ؟ لَا نَرْضَى بِذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومعشر بیان کرتے ہیں : جب معاویہ بن یزید کا انتقال ہو گیا ، تو تمام اہل شام نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت کر لی ، صرف اہل اردن نے نہیں کی ، جب بنو امیہ کے اکابرین نے یہ صورت حال دیکھی اور شام کے کچھ افراد اور معززین نے یہ بات دیکھی ، جن میں ایک روح بن زنباع جذامی بھی تھا ، تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: حکومت تو ہمارے یعنی اہل شام کے درمیان رہنی چاہیے اور یہ اب منتقل ہو کے اہل حجاز کی طرف چلی جائے گی ، تو ہم اس سے راضی نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12090
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (4640)»