حدیث نمبر: 12087
وَعَنْ أَبِي الْمُحَيَّاةِ - يَعْنِي الْمُخْتَارَ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَدِمْتُ مَكَّةَ بَعْدَمَا صُلِبَ - أَوْ قُتِلَ - ابْنُ الزُّبَيْرِ بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، فَكَلَّمَتْ أُمُّهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الْحَجَّاجَ فَقَالَتْ : أَمَا آنَ لِهَذَا الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ ؟ قَالَ : الْمُنَافِقُ ؟ قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، مَا كَانَ بِمُنَافِقٍ ، وَلَقَدْ كَانَ صَوَّامًا قَوَّامًا . قَالَ : فَاسْكُتِي ، فَإِنَّكِ عَجُوزٌ قَدْ خَرِفْتِ . قَالَتْ : مَا خَرِفْتُ [ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ " . أَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ - يَعْنِى الْمُخْتَارَ - ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ . ¤ زَادَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : فَقَالَ الْحَجَّاجُ : فِي حَدِيثِهِ : مُبِيرُ الْمُنَافِقِينَ ] . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو الْمُحَيَّاةِ وَأَبُوهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین

ابومحیاۃ ، یعنی مختار اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیے جانے کے جانے کے تین بعد مکہ آیا ، ان کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے حجاج کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: اب وہ وقت آ گیا ہے کہ یہ سوار نیچے اتر آئے ( یعنی ان کی لاش کو سولی سے اتار دیا جائے ) تو حجاج نے دریافت کیا : منافق کی ؟ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! وہ منافق نہیں تھا بلکہ وہ تو روزہ دار اور نفلی نماز پڑھنے والا شخص تھا ، حجاج نے کہا: تم خاموش رہو تم ایک بوڑھی عورت ہو ، جو خرافات بولتی ہو ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میں نے کبھی کوئی خرافات بیان نہیں کی ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” ثقیف قبیلے سے ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) اور ایک خون بہانے والا شخص نکلے گا ۔ “ جہاں تک کذاب کا تعلق ہے ، تو اُسے ہم نے دیکھ لیا ( اس سے مراد مختار ثقفی ہے ) اور جہاں تک خون بہانے والے کا تعلق ہے تو اس سے مراد تم ہو ۔ ابوبکر بن ابوشیبہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : حجاج نے کہا: میں منافقین کا خون بہانے والا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابومحیاۃ اور اس کے والد ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12087
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (101/24)»