حدیث نمبر: 12086
وَعَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ الْعَرْنَجِيِّ قَالَ : صَلَبَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى عَقَبَةِ الْمَدِينَةِ لِيُرِيَ ذَلِكَ قُرَيْشًا ، فَلَمَّا أَنْ تَفَرَّقُوا جَعَلُوا يَمُرُّونَ فَلَا يَقِفُونَ عَلَيْهِ ، حَتَّى مَرَّ عَلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ أَبَا خَبِيبٍ - لَقَدْ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكَ عَنْ ذَا - قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ كُنْتَ صَوَّامًا قَوَّامًا ، تَصِلُ الرَّحِمَ . فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ مَوْقِفُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ ، فَاسْتَنْزَلَهُ ، فَرَمَى بِهِ فِي قُبُورِ الْيَهُودِ ، وَبَعَثَ إِلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ تَأْتِيَهُ ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا ، فَأَبَتْ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا : لَتَجِيئِنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكِ مَنْ يَسْحَبُكِ بِقُرُونِكِ . قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ ، لَا آتِيكَ حَتَّى تُرْسِلَ إِلَيَّ مَنْ يَسْحَبُنِي بِقُرُونِي . فَأَتَاهُ رَسُولُهُ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا غُلَامُ ، نَاوِلْنِي سَبْتَيَّ ، فَنَاوَلَهُ نَعْلَيْهِ ، فَقَامَ وَهُوَ يَتَّقِدُ حَتَّى أَتَاهَا ، فَقَالَ : كَيْفَ رَأَيْتِ اللَّهَ صَنَعَ بِعَدُوِّ اللَّهِ ؟ قَالَتْ : رَأَيْتُكَ أَفْسَدْتَ عَلَيْهِ دُنْيَاهُ ، وَأَفْسَدَ عَلَيْكَ آخِرَتَكَ ، وَأَمَّا مَا كُنْتَ تُعَيِّرُهُ بِذَاتِ النِّطَاقَيْنِ ، أَجَلْ ، لَقَدْ كَانَ لِي نِطَاقَانِ ، نِطَاقٌ أُغَطِّي بِهِ طَعَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النَّمْلِ ، وَنِطَاقٌ آخَرُ لَا بُدَّ لِلنِّسَاءِ مِنْهُ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي ثَقِيفٍ مُبِيرًا وَكَذَّابًا " . فَأَمَّا الْكَذَّابُ فَقَدْ رَأَيْنَاهُ ، وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَأَنْتَ ذَاكَ . قَالَ : فَخَرَجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابونوفل بن ابوعقرب عرنجی بیان کرتے ہیں : حجاج نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو مدینہ کی گھاٹی پر مصلوب کیا تھا ، تاکہ یہ چیز قریش کو دکھا دے ، جب وہ لوگ منتشر ہو گئے تو ان کے پاس سے گزرنے لگے ، وہ ان کے پاس ٹھہرتے نہیں تھے ، یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس سے گزرے تو وہ وہاں ٹھہر گئے ، اور انہوں نے کہا: اے ابوخبیب ! تم پر سلام ہو ، یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے اور پھر فرمایا : میں تمہیں اس بات سے منع کیا کرتا تھا ، یہ کلمات بھی انہوں نے تین مرتبہ کہے ، تم روزہ دار تھے ، نماز پڑھنے والے تھے ، صلہ رحمی کرنے والے تھے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول کے بارے میں حجاج کو اطلاع ملی ، تو اس نے حکم دیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی میت کو اتارا گیا اور یہودیوں کے قبرستان میں ڈال دیا گیا ، پھر حجاج نے سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کے پاس آئیں ، اس خاتون کی بینائی رخصت ہو چکی تھی ، اس خاتون نے آنے سے انکار کر دیا ، تو حجاج نے انہیں پیغام بھیجا کہ یا تو آپ آئیں گی یا میں آپ کی طرف اس شخص کو بھیجوں گا ، جو آپ کے بالوں سے پکڑ کر آپ کو لے کر آئے گا ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم میں تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آؤں گی ، جب تک تم میری طرف اس شخص کو نہیں بھیجتے ، جو مجھے بالوں سے پکڑ کر لے جائے ، حجاج کا قاصد اس کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے اپنے خادم سے کہا: اے لڑکے مجھے میرے جوتے پکڑاؤ ! اس نے اسے جوتے پکڑائے ، وہ اُٹھا اور چلتا ہوا سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ، اس نے کہا: آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمن کے ساتھ کیسا معاملہ کیا ؟ تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تمہارے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ تم نے اس کی دنیا اس کے لئے خراب کر دی ، اور اس نے تمہاری آخرت تمہارے لئے خراب کر دی ، جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے کہ تم دو کمر بندوں والی ( کا بیٹا ہونے ) کے حوالے سے اُسے عار دلایا کرتے تھے ، تو یہ بات ٹھیک ہے ، میرے دو کمربند تھے ، ایک کمربند کے ذریعے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کو باندھ دیتی تھی ، تاکہ چیونٹیاں اس تک نہ پہنچیں اور دوسرا کمربند وہ تھا جس کے بغیر چارہ نہیں ہے ، اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ثقیف قبیلے میں ایک خون بہانے والا شخص ہو گا ، اور ایک کذاب ( یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ) ہو گا ۔ “ جہاں تک کذاب شخص کا تعلق ہے ، اسے تو ہم نے دیکھ لیا تھا ( یعنی مختار ثقفی تھا ) اور جہاں تک خون بہانے والے شخص کا تعلق ہے ، تو وہ تم ہو گے ، راوی کہتے ہیں : تو حجاج وہاں سے چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12086
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (102/24)»