مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : أَنَا حَاضِرٌ قَتْلَ ابْنِ الزُّبَيْرِ يَوْمَ قُتِلَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، جُعِلَتِ الْجُيُوشُ تَدْخُلُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَكُلَّمَا دَخَلَ قَوْمٌ مِنْ بَابٍ حَمَلَ عَلَيْهِمْ وَحْدَهُ حَتَّى يُخْرِجَهُمْ ، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ إِذْ جَاءَتْ شُرْفَةٌ مِنْ شُرُفَاتِ الْمَسْجِدِ فَوَقَعَتْ عَلَى رَأْسِهِ فَصَرَعَتْهُ ، وَهُوَ يَتَمَثَّلُ بِهَذِهِ الْأَبْيَاتِ : ¤ تَقُولُ أَسْمَاءُ : أَلَا تُبْكِينِي لَمْ يَبْقَ إِلَّا حَسَبِي وَدِينِي وَصَارِمٍ لَانَتْ بِهِ يَمِينِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤اسحاق بن ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیے جانے کے وقت وہاں موجود تھا ، یہ اس دن کی بات ہے جب انہیں مسجد حرام میں قتل کیا گیا ، دشمن کے سپاہی مسجد کے دروازے سے اندر داخل ہوتے تھے ، جب بھی کچھ لوگ کسی دروازے سے داخل ہوتے تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اکیلے ان پر حملہ کر دیتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں باہر نکلنے پر مجبور کر دیتے تھے ، ابھی وہ یہی کچھ کر رہے تھے کہ اسی دوران مسجد کا ایک اوپری حصہ آیا اور ان کے سر پر گرا ، اس نے انہیں گرا دیا ، تو انہوں نے یہ اشعار پڑھے : ” سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا یہ کہتی ہیں : تم مجھے نہ رلاؤ ، صرف میرا حسب اور میرا دین باقی رہ گیا ہے ، اور مضبوط شخص نے میرا دایاں ہاتھ کمزور کر دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔