مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ : قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : مَا شَيْءٌ كَانَ يُحَدِّثُنَاهُ كَعْبٌ إِلَّا قَدْ آتَى عَلَيَّ مَا قَالَ ، إِلَّا قَوْلُهُ : فَتَى ثَقِيفٍ يَقْتُلُنِي ، وَهَذَا رَأْسُهُ بَيْنَ يَدِي - يَعْنِي الْمُخْتَارَ . قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : وَلَا يَشْعُرُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ قَدْ خُبِّئَ لَهُ - يَعْنِي الْحَجَّاجَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی کہ کعب نے ہمیں جو بات بھی بتائی تھی ، تو وہ بات میرے حوالے سے ، اُن کے کہے ہوئے کے مطابق پوری ثابت ہوئی ، البتہ ان کی یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ ثقیف قبیلے کا ایک نوجوان مجھے قتل کرے گا ، حالانکہ اس کا سر میرے سامنے موجود ہے ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی مراد مختار ثقفی تھا ۔ ابن سیرین بیان کرتے ہیں : انہیں یہ اندازہ نہیں ہو پایا کہ ان کے لئے ابومحمد کو تیار رکھا گیا ہے ، ابن سیرین کی مراد حجاج بن یوسف تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔