مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ إِيَادِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ : كَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْبَيْعَةِ ، فَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ ، فَظَنَّ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ إِنَّمَا امْتَنَعَ عَلَيْهِ لِمَكَانِهِ ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ : [ ابْنَ عَبَّاسٍ ] أَمَّا بَعْدُ ، إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ الْمُلْحِدَ ابْنَ الزُّبَيْرِ دَعَاكَ إِلَى بَيْعَتِهِ لِيُدْخِلَكَ فِي طَاعَتِهِ فَتَكُونَ عَلَى الْبَاطِلِ ظَهِيرًا ، وَفِي الْمَأْثَمِ شَرِيكًا ، فَامْتَنَعْتَ عَلَيْهِ ، وَانْقَبَضْتَ لِمَا عَرَّفَكَ اللَّهُ فِي نَفْسِكَ مِنْ حَقِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ أَفْضَلَ مَا جَزَى الْوَاصِلِينَ عَنْ أَرْحَامِهِمُ الْمُوفِينَ بِعُهُودِهِمْ ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَنْ أَنْسَى بِرَّكَ وَصِلَتَكَ ، وَحُسْنَ جَائِزَتِكَ الَّتِي أَنْتَ أَهْلُهَا فِي الطَّاعَةِ ، وَالشَّرَفِ ، وَالْقَرَابَةِ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ مَنْ قِبَلَكَ مِنْ قَوْمِكَ وَمَنْ يَطْرَأُ عَلَيْكَ مِنْ أَهْلِ الْآفَاقِ مِمَّنْ يَسْحَرُهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِلِسَانِهِ ، وَزُخْرُفِ قَوْلِهِ ، فَخَذِّلْهُمْ عَنْهُ ، فَإِنَّهُمْ لَكَ أَطْوَعُ ، وَمِنْكَ أَسْمَعُ مِنْهُمْ لِلْمُلْحِدِ ، وَالْخَارِقِ الْمَارِقِ ، وَالسَّلَامُ . ¤ فَكَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَيْهِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَقَدْ جَاءَنِي كِتَابُكَ ، تَذْكُرُ فِيهِ دُعَاءَ ابْنِ الزُّبَيْرِ إِيَّايَ لِلَّذِي دَعَانِي إِلَيْهِ ، وَأَنِّي امْتَنَعْتُ عَلَيْهِ مَعْرِفَةً لِحَقِّكَ ، فَإِنْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَلَسْتُ بِرَّكَ أَرْجُو بِذَلِكَ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ بِمَا أَنْوِي بِهِ عَلِيمٌ . ¤ وَكَتَبْتَ إِلَيَّ أَنْ أَحُثَّ النَّاسَ عَلَيْكَ وَأَخْذُلَهُمْ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، فَلَا وَلَا سُرُورَ وَلَا حُبُورَ ، بِفِيكَ الْكَثْكَثُ ، وَلَكَ الْأَثْلَبُ ، إِنَّكَ الْعَازِبُ إِنْ مَنَّتْكَ نَفْسُكَ ، وَإِنَّكَ لَأَنْتَ الْمَفْقُودُ الْمَثْبُورُ . ¤ وَكَتَبْتَ إِلَيَّ بِتَعْجِيلِ بِرِّي وَصِلَتِي ، فَاحْبِسْ أَيُّهَا الْإِنْسَانُ عَنِّي بِرَّكَ وَصِلَتَكَ ، فَإِنِّي حَابِسٌ عَنْكَ وُدِّي وَنُصْرَتِي ، وَلَعَمْرِي مَا تُعْطِينَا مِمَّا فِي يَدِكَ لَنَا إِلَّا الْقَلِيلَ وَتَحْبِسُ مِنْهُ الطَّوِيلَ الْعَرِيضَ ، لَا أَبَا لَكَ ، أَتُرَانِي أَنْسَى قَتْلَكَ حُسَيْنًا وَفِتْيَانَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ مَصَابِيحَ الدُّجَى وَنُجُومَ الْأَعْلَامِ ، وَغَادَرَتْهُمْ خُيُولُكَ بِأَمْرِكَ فَأَصْبَحُوا مُصْرَعِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، مُزَمَّلِينَ بِالدِّمَاءِ ، مَسْلُوبِينَ بِالْعَرَاءِ ، لَا مُكَفَّنِينَ وَلَا مُوَسَّدِينَ ، تُسَفِّيهُمُ الرِّيَاحُ ، وَتَغْزُوهُمُ الذِّئَابُ ، وَتَنْتَابُهُمْ عُرْجُ الضِّبَاعِ ، حَتَّى أَتَاحَ اللَّهُ لَهُمْ قَوْمًا لَمْ يُشْرِكُوا فِي دِمَائِهِمْ فَكَفَّنُوهُمْ وَأَجْنَوْهُمْ ، وَبِهِمْ وَاللَّهِ وَبِي مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ، فَجَلَسْتَ فِي مَجْلِسِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ ، وَمَهْمَا أَنْسَى مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْلِيطَكَ عَلَيْهِمُ الدَّعِيَّ ابْنَ الدَّعِيِّ الَّذِي كَانَ لِلْعَاهِرَةِ الْفَاجِرَةِ ، الْبَعِيدَ رَحِمًا ، اللَّئِيمَ أَبًا وَأُمًّا ، الَّذِي اكْتَسَبَ أَبُوكَ فِي ادِّعَائِهِ لَهُ الْعَارَ وَالْمَأْثَمَ وَالْمَذَلَّةَ وَالْخِزْيَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . وَإِنَّ أَبَاكَ يَزْعُمُ أَنَّ الْوَلَدَ لِغَيْرِ الْفِرَاشِ وَلَا يَضِيرُ الْعَاهِرَ ، وَيَلْحَقُ بِهِ وَلَدُهُ كَمَا يَلْحَقُ وَلَدُ الْبَغِيِّ الرَّشِيدُ ، وَلَقَدْ أَمَاتَ أَبُوكَ السُّنَّةَ جَهْلًا ، وَأَحْيَا الْأَحْدَاثَ الْمُضِلَّةَ عَمْدًا . وَمَهْمَا أَنْسَ مِنَ الْأَشْيَاءِ فَلَسْتُ أَنْسَى تَسْيِيرَكَ حُسَيْنًا مِنْ حَرَمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى حَرَمِ اللَّهِ ، وَتَسْيِيرَكَ إِلَيْهِ الرِّجَالَ ، وَادِّسَاسَكَ إِلَيْهِمْ أَنْ يُدْرِيَكُمْ ، فَعَالَجُوهُ فَمَا زِلْتَ بِذَلِكَ وَكَذَلِكَ حَتَّى أَخْرَجْتَهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى أَرْضِ الْكُوفَةِ ، تَزْأَرُ بِهِ إِلَيْهِ خَيْلُكَ وَجُنُودُكَ زَئِيرَ الْأَسَدِ ، عَدَاوَةً مِنْكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلَأَهْلِ بَيْتِهِ ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَى ابْنِ مَرْجَانَةَ يَسْتَقْبِلُهُ بِالْخَيْلِ وَالرِّجَالِ وَالْأَسِنَّةِ وَالسُّيُوفِ ، ثُمَّ كَتَبْتَ إِلَيْهِ بِمُعَالَجَتِهِ وَتَرْكِ مُطَاوَلَتِهِ حَتَّى قَتَلْتَهُ وَمَنْ مَعَهُ مِنْ فِتْيَانِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَهْلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا ، نَحْنُ كَذَلِكَ لَا كَآبَائِكَ [ الْأَجْلَافِ ] الْجُفَاةِ أَكْبَادِ الْحَمِيرِ ، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ كَانَ أَعَزَّ أَهْلِ الْبَطْحَاءِ بِالْبَطْحَاءِ قَدِيمًا وَأَعَزَّهُ بِهَا حَدِيثًا ، لَوَّثُوا الْحَرَمَيْنِ مَقَامًا ، وَاسْتَحَلَّ بِهَا قِتَالًا ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ هُوَ الَّذِي يَسْتَحِلُّ [ بِهِ ] حَرَمَ اللَّهِ وَحَرَمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحُرْمَةَ الْبَيْتِ الْحَرَامِ ، [ فَطَلَبَ إِلَيْكُمْ الْحُسَيْنُ الْمُوَادَعَةَ وَسَأَلَكُمُ الرَّجْعَةَ فَاغْتَنَمْتُمْ ] قِلَّةَ أَنْصَارِهِ وَاسْتِئْصَالَ أَهْلِ بَيْتِهِ ، كَأَنَّكُمْ تَقْتُلُونَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ التُّرْكِ أَوْ كَابُلَ . ¤ وَكَيْفَ تَجِدُنِي عَلَى وُدِّكَ ، وَتَطْلُبُ نَصْرِي ، وَقَدْ قَتَلْتَ بَنِي أَبِي ، وَسَيْفُكَ يَقْطُرُ مِنْ دَمِي ، وَأَنْتَ تَطْلُبُ ثَأْرِي ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا يُطِلُّ إِلَيْكَ دَمِي ، وَلَا تَسْبِقُنِي بِثَأْرِي ، وَإِنْ تَسْبِقْنَا بِهِ فَقَبِلْنَا مَا قُتِلَتِ النَّبِيُّونَ [ وَآلُ النَّبِيِّينَ ] ، فَطَلَبَ دِمَاءَهُمْ فِي الدِّمَاءِ ، وَكَانَ الْمُوعِدَ اللَّهُ ، وَكَفَى بِاللَّهِ لِلْمَظْلُومِينَ نَاصِرًا مِنَ الظَّالِمِينَ مُنْتَقِمًا . وَالْعَجَبُ كُلُّ الْعَجَبِ مَا عِشْتَ يُرِيكَ الدَّهْرُ الْعَجَبَ ، حَمْلَكَ بَنَاتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَحَمْلَكَ أَبْنَاءَهُمْ أُغَيْلِمَةً صِغَارًا إِلَيْكَ بِالشَّامِ ، تُرِي النَّاسَ أَنَّكَ قَدْ قَهَرْتَنَا وَأَنَّكَ تُذِلُّنَا ، وَبِهِمْ وَاللَّهِ وَبِي مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى أَبِيكَ وَأُمِّكَ مِنَ السِّبَاءِ ، وَايْمُ اللَّهِ إِنَّكَ لَتُصْبِحُ وَتُمْسِي آمِنًا لِجِرَاحِ يَدِي وَلَيَعْظُمَنَّ جَرْحُكَ بِلِسَانِي وَبَنَانِي وَنَقْضِي وَإِبْرَامِي ، لَا يَسْتَغِرَّنَّكَ الْجَدَلُ ، فَلَنْ يُمْهِلَكَ اللَّهُ بَعْدَ قَتْلِكَ عِتْرَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى يَأْخُذَكَ اللَّهُ أَخْذًا أَلِيمًا ، وَيُخْرِجَكَ مِنَ الدُّنْيَا آثِمًا مَذْمُومًا ، فَعِشْ لَا أَبَا لَكَ مَا شِئْتَ فَقَدْ أَرْدَاكَ عِنْدَ اللَّهِ مَا اقْتَرَفْتَ . ¤ لَمَّا قَرَأَ يَزِيدُ الرِّسَالَةَ قَالَ : لَقَدْ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُنْصَبَّا عَلَى الشَّرِّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ایاد بن ولید بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیعت کے حوالے سے خط لکھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُن کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا ، یزید بن معاویہ یہ سمجھا کہ انہوں نے اُس ( یعنی یزید بن معاویہ ) کی وجہ سے انکار کیا ہے ، تو یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا ، جس میں یہ تحریر تھا : ( اے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ! ) امابعد ! مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ ابن زبیر ملحد نے آپ کو اپنی بیعت کرنے کی دعوت دی تھی ، تاکہ وہ آپ کو اپنی اطاعت میں داخل کرے ، اور آپ باطل کے مددگار بن جائیں ، اور گناہ میں حصے دار ہو جائیں ، لیکن آپ نے انکار کر دیا اور ہاتھ پیچھے کر لیا ، کیونکہ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے من میں ہمارے حق کی معرفت داخل کر دی ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو وہ سب سے اچھی جزا عطا فرمائے ، جو جزا وہ صلہ رحمی کرنے والوں اور اپنے عہد کو پورا کرنے والوں کو دیتا ہے ۔ ہو سکتا ہے میں بہت سی چیزیں بھول جاؤں ، لیکن میں آپ کی اچھائی ، آپ کی صلہ رحمی اور آپ کی مہربانی کو نہیں بھولوں گا ، اطاعت ، شرف اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت کے حوالے سے آپ اس کے اہل ہیں ۔ آپ اپنی طرف موجود اپنی قوم اور دور دراز کے علاقوں سے جو لوگ آپ کے پاس آتے ہیں ، آپ ان کا جائزہ لیں ، کہ جنہیں ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی زبان کے ذریعے اپنی آراستہ جھوٹی گفتگو سے مسحور کیا ہوا ہے ، آپ ان لوگوں کو اس سے الگ کروا دیں ، کیونکہ اس ملحد ، دراڑ ڈالنے والے باغی کے مقابلے میں ، لوگ آپ کے زیادہ فرمانبردار ہیں ، اور آپ کی بات زیادہ سنتے ہیں ، والسلام ! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اُس کو ( جوابی خط میں ) لکھا : امابعد ! تمہارا خط مجھے ملا ، جس میں تم نے یہ ذکر کیا کہ ابن زبیر نے مجھے دعوت دی ، اس چیز کی ، جس کی اس نے مجھے دعوت دی اور میں نے تمہارے حق کی معرفت کی وجہ سے اس کو انکار کر دیا ، اگر یہ بات اسی طرح ہوتی ، تو بھی میں اس کے ذریعے تمہاری طرف سے کسی مہربانی کی توقع نہ رکھتا ، بلکہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں میری نیت کے بارے میں بہتر جانتا ہے ، تم نے مجھے یہ تحریر کیا : کہ میں لوگوں کو تمہارے بارے میں ترغیب دوں اور انہیں ابن زبیر سے ہٹا دوں ، تو یہ نہیں ہو گا ، نہ یہ خوشی کی بات ہے اور نہ ہی اچھائی کی ہے ، تمہارے منہ میں خاک ہو ، تمہیں پتھر ملیں ، اگر تمہارا نفس تم پر مہربانی کر دے ، تو تم دور کے فرد ہو ، اور تم ایک گمشده ، برباد شدہ فرد ہو ۔ تم نے مجھے میرے ساتھ اچھائی اور صلہ رحمی کے بارے میں جلدی کرنے کے حوالے سے جو لکھا ہے ، تو اے فرد ! تم اپنی اچھائی اور صلہ رحمی ( مجھ سے ) دور ہی رکھو ! اور میں نے بھی اپنی محبت اور نصرت تم سے روک کے ہی رکھی ہوئی ہے ۔ اور میری عمر کی قسم ، تم اپنے ہاتھ میں موجود چیزوں میں سے جو کچھ بھی دو گے ، وہ تھوڑا ہو گا اور اس میں سے بہت سے لمبے چوڑے حصے کو تم روک لو گے ، تمہارا باپ نہ رہے ، کیا تم میرے بارے میں یہ سمجھتے ہو ؟ کہ میں یہ بات بھول جاؤں گا کہ تم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور خاندان عبدالمطلب کے نوجوانوں کو شہید کروایا ہے ، جو اندھیرے میں چراغ اور روشن ستاروں کی حیثیت رکھتے تھے ، اور تمہارے حکم سے تمہارے گھڑ سواروں نے اُن کی لاشوں کی بے حرمتی کی ، اور وہ ایک میدان میں یوں پڑے ہوئے تھے کہ انہوں نے خون کی چادریں اوڑھی ہوئی تھیں ، انہیں رسیوں سے باندھ دیا گیا تھا ، نہ انہیں کفن دیا گیا اور نہ انہیں ٹیک دی گئی ، ہوائیں ان پر گرد اڑاتی رہیں ، بھیڑیے اُن کے پاس آتے رہے ، بجو انہیں نوچتے رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے پاس ایک ایسی قوم کو لے کر آ گیا ، جو اُن کے ساتھ کوئی خونی رشتہ نہیں رکھتے تھے ، اور ان لوگوں نے اُن ( شہداء ) کے کفن دفن کا انتظام کیا ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ احسان کیا کہ تم اس مقام پر موجود ہو ، جو تمہاری حیثیت ہے ، میں ہر چیز بھول سکتا ہوں ، لیکن میں یہ بات نہیں بھول سکتا کہ تم نے اُن لوگوں پر ایک ایسے شخص کو مسلط کیا ، جو نطفہ ناتحقیق ہے ، جو ایک گناہگار زانیہ کا بیٹا ہے ، رحم ( یا رشتہ داری ) کے حوالے سے دور ہے ، اور ماں باپ کے حوالے سے کمتر ہے ، یہ وہ شخص ہے کہ تمہارے والد نے اس کا دعویٰ کر کے دنیا و آخرت میں اپنے لیے شرمندگی ، گناہ اور ذلت کمائی ہے ۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بچہ فراش والے کا شمار ہوتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو محرومی ( یا پتھر ) ملتا ہے ۔ “ اور تمہارے والد یہ گمان کرتے تھے کہ بچہ فراش والے کے علاوہ کو بھی دیا جا سکتا ہے ، اور زنا کرنے والے کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے ، اور اس کا ( ناجائز ) بچہ ، اس کے ساتھ لاحق کر دیا جائے ، جس طرح فاحشہ کے بچے کو نیک آدمی کے ساتھ لاحق کیا جاتا ہے ، تو تمہارے والد نے جہالت کی وجہ سے سنت کو موت دی ، اور جان بوجھ کر گمراہ کرنے والی بدعتیں پیدا کیں ۔ میں بہت سی چیزیں بھول سکتا ہوں ، لیکن یہ بات نہیں بھول سکتا کہ تم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم سے اللہ تعالیٰ کے حرم کی طرف جانے پر مجبور کیا اور پھر تم نے ان کی طرف اپنے آدمی اور سازشی لوگ بھیجے ، کہ اگر صورتحال ق ابوسے باہر ہوئی تو تم لوگ انہیں سنبھال لینا ، اور تم مسلسل اُن کے ساتھ ایسا کرتے رہے ، یہاں تک کہ تم نے انہیں مکہ سے نکل کر کوفہ کی سرزمین کی طرف جانے پر مجبور کر دیا ، جہاں تم نے اپنے شہوار اور لشکر ان کی گھات میں یوں تیار رکھے تھے ، جیسے شیر گھات میں ہوتا ہے ، اور یہ سب کچھ تمہاری اُس عداوت کی وجہ سے تھا ، جو عداوت اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان ( یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اہل بیت کے لیے تھی ۔ پھر تم نے ابن مرجانہ کو خط لکھا اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ اپنے گھڑ سواروں ، پیادہ افراد کو نیزوں اور تلواروں کے ہمراہ ان کا سامنا کرے اور پھر تم نے اسے یہ بھی لکھا کہ وہ یہ کام جلدی کرے ، اس میں تاخیر نہ کرے ، یہاں تک کہ تم نے انہیں ( یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ) اور ان کے ساتھ اولاد عبدالمطلب کے نوجوانوں کو قتل کروا دیا ، جو ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ، جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا تھا ، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دیا تھا ، ہم بھی اسی طرح ہیں ، تمہارے بیوقوف اور سخت آباؤ اجداد کی طرح نہیں ہیں جو گدھوں کی طرح کے جگر ( یعنی دل ) رکھتے تھے ، تم یہ بات جانتے ہو کہ وہ ( یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ) بطحاء میں زمانہ قدیم کے اعتبار سے بھی ، اہل بطحاء میں سب سے زیادہ عزت والے تھے ، اور زمانہ جدید کے اعتبار سے بھی ان سب سے زیادہ عزت والے تھے ، تم لوگوں نے حرمین کی بے حرمتی کی ، وہاں قتل و غارتگری کو حلال قرار دیا ، لیکن انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ ایسے فرد بن جائیں ، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حرم ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم اور بیت الحرام کی حرمت کو نقصان پہنچے ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ کہا: انہیں جانے دیا جائے ، انہوں نے تم سے واپسی کے لئے کہا: ، لیکن تم نے اُن کے مددگاروں کے کم ہونے کو غنیمت سمجھا اور ان کے گھرانے کے افراد کو یوں ختم کر دیا ، جیسے تم ترکوں یا کابل کے کسی گھرانے کے افراد کو قتل کرتے ہو ۔ تم مجھ سے کیسے اپنے لئے محبت پا سکتے ہو اور کیسے میری مدد مانگ سکتے ہو ؟ جبکہ تم نے میرے باپ کی اولاد کو قتل کیا ہے ، تمہاری تلوار سے میرے خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، اور تم میرا ساتھ چاہتے ہو ؟ اگر اللہ نے چاہا ، تو میرا خون رائیگاں نہیں جائے گا ، اور اس کا بدلہ ضرور لیا جائے گا ، اور اگر اُس کا بدلہ نہ لیا جا سکا ، تو ہم اس چیز کو قبول کر لیں گے کہ انبیاء کرام اور انبیاء کی آل کو بھی شہید کیا گیا تھا ، اُن کے قتل کا بھی حساب مانگا گیا ، بہرحال اللہ تعالیٰ کا وعدہ تو ہے ( یعنی ایک دن وہ سب سے حساب لے گا ) مظلوموں کے لیے مددگار ہونے ، اور ظالموں سے انتقام لینے والے کے طور پر ، اللہ تعالیٰ کافی ہے ، حیرانگی اس بات پر ہوتی ہے کہ جب تک تم زندہ رہو گے ، زمانہ تمہیں حیران کن چیزیں دکھاتا رہے گا ، جناب عبدالمطلب کے خاندان کی بیٹیاں اور اُن کے خاندان کے کم سن بچے تمہارے پاس شام لے جائے گئے ، تاکہ تم لوگوں کو یہ دکھا سکو کہ تم نے ہم پر غلبہ پا لیا ہے ، اور تم نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے ، حالانکہ اللہ کی قسم ! اُن لوگوں کی وجہ سے اور میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر ، تمہارے باپ پر اور تمہاری ماں پر احسان کیا ۔ اللہ کی قسم ! تم ایسی حالت میں صبح اور شام کرتے ہو کہ تم میرے ہاتھوں زخمی ہونے سے محفوظ ہوتے ہو ، لیکن میری زبان میرے پوروں ( یعنی لکھنے ) اور میرے نقض و ابرام ( یا خاموشی ) کے حوالے سے لگنے والا ، تمہارا زخم بڑا ہوتا جائے گا ، لڑائی تمہیں کامیاب نہیں کر سکے گی ، اور تمہارے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عترت کو قتل کرنے کے بعد ، اللہ تعالیٰ تمہیں تھوڑی مہلت ہی دے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک گرفت میں لے گا ، اور وہ تمہیں ایسی حالت میں دنیا سے لے جائے گا کہ تم قابل مذمت اور گناہ گار ہو گے ، تو تمہارا باپ نہ رہے ، تم جیسے چاہتے ہو زندہ رہو ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہیں اس چیز نے بے حیثیت کر دیا ہے ، جس کا تم نے ارتکاب کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب یزید نے یہ مکتوب پڑھا ، تو وہ بولا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ” شر “ کو نصب کرنے والے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔