حدیث نمبر: 12081
وَعَنْ أَبِي هَارُونَ الْعَبْدِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ مُمَّعِطَ اللِّحْيَةِ ، فَقَالَ : تَعْبَثُ بِلِحْيَتِكَ ؟ قَالَ : لَا ، هَذَا مَا رَأَيْتُ مِنْ ظَلَمَةِ أَهْلِ الشَّامِ ، دَخَلُوا عَلَيَّ زَمَانَ الْحَرَّةِ ، فَأَخَذُوا مَا كَانَ فِي الْبَيْتِ مِنْ مَتَاعٍ أَوْ خُرْثِيٍّ ، ثُمَّ دَخَلَتْ طَائِفَةٌ أُخْرَى فَلَمْ يَجِدُوا فِي الْبَيْتِ شَيْئًا فَأَسِفُوا أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ ، فَقَالُوا : أَضْجِعُوا الشَّيْخَ ، فَأَضْجَعُونِي ، فَجَعَلَ كُلٌّ يَأْخُذُ مِنْ لِحْيَتِي خَصْلَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو هَارُونَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوہارون عبدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ اُن کے داڑھی کے بال گر چکے ہوئے تھے ، راوی نے کہا: کیا آپ اپنی داڑھی کے ساتھ کھیلتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ! اہل شام سے تعلق رکھنے والے ظالم لوگوں کی طرف سے مجھے اس کا سامنا کرنا پڑا ، واقعہ حرہ کے زمانے میں وہ میرے گھر میں آئے ، انہوں نے گھر میں موجود سب مال و اسباب لوٹ لیا ، پھر دوسرا گروہ گھر میں آیا تو انہیں گھر میں کچھ نہیں ملا ، انہیں اس بات پر افسوس ہوا کہ وہ کچھ لیے بغیر واپس جائیں گے ، تو انہوں نے کہا: اس بڈھے کو لٹاؤ ! تو انہوں نے مجھے لٹا دیا ، اور ان میں سے ہر ایک نے میری داڑھی کے بال نوچے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوہارون نامی راوی متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12081
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً