مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ - يَعْنِي ابْنَ رُمَّانَةَ - أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِيَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ : قَدْ وَطَّأْتُ لَكَ الْبِلَادَ ، وَفَرَشْتُ لَكَ النَّاسَ ، وَلَسْتُ أَخَافُ عَلَيْكُمْ إِلَّا أَهْلَ الْحِجَازِ ، فَإِنْ رَابَكَ مِنْهُمْ رَيْبٌ فَوَجِّهْ إِلَيْهِمْ مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ ، فَإِنِّي قَدْ جَرَّبْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ فَلَمْ أَجِدْ لَهُ مِثْلًا لِطَاعَتِهِ وَنَصِيحَتِهِ . فَلَمَّا جَاءَ يَزِيدَ خِلَافُ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَدُعَاؤُهُ إِلَى نَفْسِهِ دَعَا مُسْلِمَ بْنَ عُقْبَةَ الْمُرِّيَّ وَقَدْ أَصَابَهُ الْفَالِجُ ، وَقَالَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَهِدَ إِلَيَّ فِي مَرَضِهِ إِنْ رَابَنِي مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ رَائِبٌ أَنْ أُوَجِّهَكَ إِلَيْهِمْ ، وَقَدْ رَابَنِي . فَقَالَ : إِنِّي كَمَا ظَنَّ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، اعْقِدْ لِي وَعَبِّ الْجُيُوشَ . قَالَ : فَوَرَدَ الْمَدِينَةَ فَأَنَاخَهَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى بَيْعَةِ يَزِيدَ ، إِنَّهُمْ أَعْبُدٌ لَهُ قِنٌّ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَمَعْصِيَتِهِ ، فَأَجَابُوهُ إِلَى ذَلِكَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا مِنْ قُرَيْشٍ أُمُّهُ أُمُّ وَلَدٍ ، فَقَالَ لَهُ : بَايِعْ لِيَزِيدَ عَلَى أَنَّكَ عَبْدٌ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَمَعْصِيَتِهِ . قَالَ : لَا ، بَلْ فِي طَاعَةِ اللَّهِ . فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ ذَلِكَ مِنْهُ وَقَتَلَهُ . فَأَقْسَمَتْ أُمُّهُ قَسَمًا لَئِنْ أَمْكَنَهَا اللَّهُ مِنْ مُسْلِمٍ حَيًّا أَوْ مَيِّتًا أَنْ تَحْرِقَهُ بِالنَّارِ . فَلَمَّا خَرَجَ مُسْلِمُ بْنُ عُقْبَةَ مِنَ الْمَدِينَةِ اشْتَدَّتْ عِلَّتُهُ فَمَاتَ . فَخَرَجَتْ أُمُّ الْقُرَشِيِّ بِأَعْبُدٍ لَهَا إِلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ ، فَأَمَرَتْ بِهِ أَنْ يُنْبَشَ مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ ، فَلَمَّا وَصَلُوا إِلَيْهِ إِذَا ثُعْبَانٌ قَدِ الْتَوَى عَلَى عُنُقِهِ قَابِضًا بِأَرْنَبَةِ أَنْفِهِ يَمُصُّهَا . قَالَ : فَكَاعَ الْقَوْمُ عَنْهُ وَقَالُوا : يَا مَوْلَاتِنَا ، انْصَرِفِي فَقَدْ كَفَاكِ اللَّهُ شَرَّهُ ، وَأَخْبَرُوهَا . قَالَتْ : لَا ، أَوْ أَفِي لِلَّهِ بِمَا وَعَدْتُهُ ، ثُمَّ قَالَتْ : انْبِشُوا مِنْ عِنْدِ الرِّجْلَيْنِ ، فَنَبَشُوا فَإِذَا الثُّعْبَانُ لَاوٍ ذَنَبَهُ بِرِجْلَيْهِ . قَالَ : فَتَنَحَّتْ فَصَلَّتْ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ إِنَّمَا غَضِبْتُ عَلَى مُسْلِمِ بْنِ عُقْبَةَ الْيَوْمَ لَكَ فَخَلِّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، ثُمَّ تَنَاوَلَتْ عُودًا فَمَضَتْ إِلَى ذَنَبِ الثُّعْبَانِ فَانْسَلَّ مِنْ مُؤَخَّرِ رَأْسِهِ فَخَرَجَ مِنَ الْقَبْرِ ، ثُمَّ أَمَرَتْ بِهِ فَأُخْرِجَ مِنَ الْقَبْرِ فَأُحْرِقَ بِالنَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَابْنُ رُمَّانَةَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد بن سعید بن رمانہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یزید بن معاویہ سے کہا: میں نے تمہارے لئے شہروں کو زیرنگیں کر دیا ہے اور لوگوں کو تمہارے لئے پابند کر دیا ہے ، مجھے تمہارے بارے میں صرف اہل حجاز کے حوالے سے اندیشہ ہے ، اگر تمہیں ان کی طرف سے کوئی مشکوک صورت حال نظر آئے ، تو تم مسلم بن عقبہ مری کو ان کی طرف بھیجنا ، کیونکہ میں اسے ایک سے زیادہ مرتبہ آزما چکا ہوں ، اطاعت و فرمانبرداری اور خیرخواہی کے حوالے سے مجھے اس جیسا شخص اور نہیں ملتا ، راوی کہتے ہیں : جب یزید کو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے اختلاف کا پتہ چلا کہ وہ کیسے اپنی حکومت کی طرف دعوت دے رہے ہیں ، تو اس نے مسلم بن عقبہ مری کو بلایا اس شخص کو فالج ہو چکا تھا ، یزید نے کہا: امیرالمؤمنین نے اپنی بیماری کے دوران مجھے یہ تلقین کی تھی کہ اگر مجھے اہل حجاز کی طرف سے کوئی مشکوک صورت حال نظر آئے ، تو میں تمہیں ان کی طرف بھیجوں ، تو مجھے یہ صورت حال نظر آ گئی ہے ، تو مسلم بن عقبہ نے کہا: میں ویسا ہی ہوں جس طرح امیرالمؤمنین کا گمان ہے ، آپ میرے لئے لشکر تیار کروائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ مدینہ منورہ میں تین دن مقیم رہا ، اس نے لوگوں کو یزید کی بیعت کرنے کی دعوت دی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور معصیت ، ہر معاملے میں یزید بن معاویہ کے حکم کے پابند ہوں گے ، لوگوں نے اس کی بات مان لی ، قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس کی بات نہیں مانی ، اس شخص کی ماں ایک اُم ولد تھی ، انہوں نے اس سے کہا: تم یزید کی بیعت اس بات پر لے رہے ہو کہ تم اللہ کی اطاعت اور نافرمانی ، ہر حالت میں اس کے غلام ہو ؟ تو اس شخص نے کہا: جی نہیں ! بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے بارے میں ، میں اس کی پیروی کروں گا ، اس نے یہ بات قبول کرنے سے انکار کیا ، تو مسلم بن عقبہ نے اسے قتل کروا دیا ۔ اس شخص کی ماں نے یہ قسم اٹھائی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مسلم پر اسے ق ابودیا ، خواہ اس وقت مسلم زندہ ہو یا مردہ ہو ، تو وہ عورت مسلم کو آگ کے ذریعے جلائے گی ، جب مسلم بن عقبہ مدینہ منورہ سے نکلا اور اس کی بیماری شدید ہو گئی اور وہ مر گیا ، تو اس قریشی شخص کی ماں اپنے غلاموں کو لے کر مسلم کی قبر کے پاس آئی ، اس نے حکم دیا کہ سرہانے کی طرف سے مسلم کی قبر کو کھودا جائے ، جب وہ لوگ مسلم کی لاش کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سانپ موجود تھا ، جس نے اس کی گردن کو لپیٹا ہوا تھا اور وہ اس کے ناک کو چوس رہا تھا ، لوگ ڈر گئے ، انہوں نے کہا: اے ہماری مالکن ! آپ واپس چلی جائیں ، کیونکہ اس شخص کے شر کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی کفایت کر دی ہے ، ان لوگوں نے اس خاتون کو اس صورت حال کے بارے میں بتایا ، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں ، میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کروں گی ، پھر اس عورت نے کہا: پاؤں کی طرف سے اس کی قبر کھودو ! ان لوگوں نے اس کی قبر کھودی ، تو ایک سانپ اس کے دونوں پاؤں سے بھی لپٹا ہوا تھا ، راوی کہتے ہیں : اس خاتون نے ایک طرف ہٹ کر دو رکعت ادا کیں اور پھر عرض کی : اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ تو نے آج مسلم بن عقبہ پر اپنے غضب کا اظہار کر دیا ہے ، تو اب مجھے بھی اس کا موقع دے ، پھر اس عورت نے ایک لکڑی پکڑی اور اس کے ذریعے سانپ کی دم کو ہٹایا ، تو وہ سر کے پچھلی طرف سے کھسک گیا اور قبر کی بائیں طرف سے باہر نکل گیا ، پھر اس عورت نے مسلم کے بارے میں حکم دیا ، تو اس کی لاش کو قبر سے نکالا گیا اور پھر آگ کے ذریعے جلا دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالرحمن ذماری ہے ، جسے ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ کہا: ہے ، ابن رمانہ نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ۔