مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : هَلَكَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ الْمَدِينِيِّ فُسْتُقَةَ - : وَبَلَغَنِي أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدَ الْخُزَاعِيَّ خَرَجَ هُوَ وَالْمُسَيَّبُ بْنُ نَجَبَةَ الْفَزَارِيُّ فِي أَرْبَعَةِ آلَافٍ ، فَعَسْكَرُوا بِالنَّخِيلَةِ يَطْلُبُونَ بِدَمِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَعَلَيْهِمْ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ ، وَذَلِكَ لِمُسْتَهَلِّ رَبِيعٍ الْآخِرِ سَنَةَ خَمْسٍ وَسِتِّينَ ، ثُمَّ سَارُوا إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَلَقَوْا مُقَدِّمَتَهُ ، فَاقْتَتَلُوا ، فَقُتِلَ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدَ وَالْمُسَيَّبُ ، وَذَلِكَ لِمُسْتَهَلِّ رَبِيعٍ الْآخِرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سلیمان بن صرد کا انتقال پینسٹھ ہجری میں ہوا تھا ۔ محمد بن علی مدینی کہتے ہیں : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ سلیمان بن صرد خزاعی اور مسیب بن نجوہ فزاری چار ہزار کا لشکر لے کر نکلے ، انہوں نے نخیلہ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، یہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے خون کے بدلے کے طلبگار تھے ، سلیمان بن صرد ان کا امیر تھا ، یہ ربیع الثانی پینسٹھ ہجری کے پہلی کے چاند کے آس پاس کی بات ہے ، پھر وہ لوگ نکل کر عبیداللہ بن زیاد کی طرف گئے ، ان کا سامنا اس کے ہر اول دستے سے ہوا ، انہوں نے آپس میں جنگ کی اور ربیع الثانی کے آخر میں سلیمان بن صرد اور مسیب مارے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔