مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ ابْنِ الزُّبَيْرِ . وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَاسْتِخْلَافُ أَبِيهِ لَهُ ، وَأَيَّامُ الْحَرَّةِ ، وَغَيْرُ ذَلِكَ باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ يَزِيدَ بَعَثَ إِلَى عَامِلِ الْمَدِينَةِ أَنْ أَوْفِدْ إِلَيَّ مَنْ تَشَاءُ . قَالَ : فَوَفَدَ إِلَيْهِ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَجَاءَ حَاجِبُ مُعَاوِيَةَ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ : هَذَا عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ قَدْ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ . فَقَالَ : مَا حَاجَتُهُمْ إِلَيَّ ؟ قَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، جَاءَ يَطْلُبُ مَعْرُوفَكَ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَلْيَكْتُبْ مَا شَاءَ ، فَأُعْطِيهِ مَا شَاءَ وَلَا أَرَاهُ . قَالَ : فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَاجِبُ فَقَالَ : مَا حَاجَتُكَ ؟ اكْتُبْ مَا شِئْتَ . فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، أَجِيءُ إِلَى بَابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأُحْجَبُ عَنْهُ ؟ ! أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَأُكَلِّمَهُ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْحَاجِبِ : عِدْهُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ فَلْيَجِئْ . قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى مُعَاوِيَةُ الْغَدَاةَ أَمَرَ بِسَرِيرٍ [ فَجُعِلَ ] فِي إِيوَانٍ لَهُ ، ثُمَّ أَخْرَجَ النَّاسَ عَنْهُ ، فَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ أَحَدٌ سِوَى كُرْسِيٍّ وُضِعَ لِعَمْرٍو . فَجَاءَ عَمْرٌو فَاسْتَأْذَنَ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ جَلَسَ عَلَى الْكُرْسِيِّ . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : حَاجَتَكَ ؟ قَالَ : فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : لَعَمْرِي لَقَدْ أَصْبَحَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ وَاسِطَ الْحَسَبِ فِي قُرَيْشٍ غَنِيًّا عَنِ الْمُلْكِ غَنِيًّا إِلَّا عَنْ كُلِّ خَيْرٍ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَسْتَرْعِ عَبْدًا رَعِيَّةً إِلَّا وَهُوَ سَائِلُهُ عَنْهَا [ كَيْفَ صَنَعَ فِيهَا " . ¤ وَإِنِّي أُذَكِّرُكَ اللَّهَ يَا مُعَاوِيَةَ فِي أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَسْتَخْلِفُ عَلَيْهَا ] قَالَ : فَأَخَذَ مُعَاوِيَةَ رَبْوُةُ وَأَخَذَ يَتَنَفَّسُ فِي غَدَاةِ قُرٍّ ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ وَجْهِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَفَاقَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّكَ امْرُؤٌ نَاصِحٌ ، قُلْتَ بِرَأْيِكَ بَالِغَ مَا بَلَغَ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ إِلَّا ابْنِي وَأَبْنَاؤُهُمْ ، وَابْنِي أَحَقُّ مِنْ أَبْنَائِهِمْ ، حَاجَتَكَ ؟ قَالَ : مَا لِي حَاجَةٌ . قَالَ : ثُمَّ قَالَ لَهُ أَخُوهُ : إِنَّمَا جِئْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نَضْرِبُ أَكْبَادَهَا مِنْ أَجْلِ كَلِمَاتٍ . قَالَ : مَا جِئْتَ إِلَّا لِكَلِمَاتٍ . قَالَ : فَأَمَرَ لَهُمْ بِجَوَائِزِهِمْ . قَالَ : وَخَرَجَ لِعَمْرٍو مِثْلُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے مدینہ منورہ کے گورنر کو خط لکھا کہ تم میری طرف جسے چاہو وفد کی شکل میں بھجواؤ ، راوی بیان کرتے ہیں ، تو سیدنا عمرو بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ وفد کی شکل میں ان کے پاس گئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربان نے آ کر بتایا کہ سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اسے مجھ سے کیا کام ہے ؟ دربان نے بتایا : امیرالمؤمنین وہ آپ سے بھلائی کے حصول کے لئے آئے ہیں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو تو وہ جو چاہتا ہے تم لکھ کے دے دو اور جو وہ چاہتا ہے وہ اسے دے دو ، میں اسے نہ دیکھوں ، دربان نکل کر ان کے پاس آیا اور بولا: آپ کو کیا کام ہے ، آپ جو چاہتے ہیں ، میں وہ لکھ دیتا ہوں ، انہوں نے فرمایا : سبحان اللہ ! میں امیرالمؤمنین کے دروازے پر آیا ہوں ، کیا مجھے ان سے ملنے نہیں دیا جائے گا ، میں ان سے ملنا چاہتا ہوں اور ان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہوں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دربان سے کہا: کہ تم ان کے ساتھ فلاں فلاں دن کا طے کر لو کہ فجر کی نماز کے بعد وہ آ جائیں ، راوی کہتے ہیں جب اس مخصوص دن میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز ادا کر لی تو ان کے حکم کے تحت ان کے ایوان میں پلنگ رکھا گیا اور لوگوں کو ان کے پاس سے نکال دیا گیا ، اس وقت ایک کرسی کے علاوہ اور کوئی ان کے پاس نہیں تھا اور وہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کے لئے رکھی گئی تھی ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی ، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں سلام کیا اور پھر وہ کرسی پر بیٹھ گئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر بولے : ” مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی اب یہ حالت ہے کہ وہ قریش میں سب سے بہتر نسب کا مالک ہے اور بادشاہی سے بے نیاز ہے اور ہر قسم کی بھلائی اسے حاصل ہے اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کوئی بندہ رعایا کا نگران بنتا ہے تو اس سے اس رعایا کے بارے میں حساب لیا جائے گا کہ اس نے رعایا کے بارے میں کیا طریقہ کار اختیار کیا تھا ؟ “ ۔ تو اے سیدنا معاویہ ! میں آپ کو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے بارے میں اللہ کی یاد دلاتا ہوں ، اس شخص کے حوالے سے ، جسے آپ اس امت کا نگران مقرر کریں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے گہرا سانس لیا ، وہ کچھ دیر تک گہرے سانس لیتے رہے ، پھر انہوں نے اپنے چہرے سے تین مرتبہ پسینہ پونچھا ، پھر ان کی طبیعت بہتر ہوئی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر بولے : امابعد ! تم ایک خیرخواہی کرنے والے شخص ہو ، تم نے اپنی رائے کا بھرپور طریقے سے اظہار کیا ہے ، اب صرف میرا بیٹا ہے اور ان لوگوں کے بیٹے باقی رہ گئے ہیں ، اور میرا بیٹا ان لوگوں کے بیٹوں سے زیادہ حق رکھتا ہے ، تمہیں کوئی اور کام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اور کوئی کام نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: ہم مدینہ منورہ سے سفر کر کے صرف ان چند باتوں کے لئے آئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : ہم صرف اسی بات کے لئے آئے تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو تحفے تحائف دینے کا حکم دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو کے لیے اس کی مانند نکلا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔