مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصُّلْحِ وَمَا كَانَ بَعْدَهُ . باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ جَالِسٌ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ جَالِسٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَجَلَسَ شَدَّادٌ بَيْنَهُمَا وَقَالَ : هَلْ تَدْرِيَانِ مَا يُجْلِسُنِي بَيْنَكُمَا ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا جَمِيعًا فَفَرِّقُوا بَيْنَهُمَا ، فَوَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَا إِلَّا عَلَى غَدْرَةٍ " ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَكُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بچھونے پر بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا شداد رضی اللہ عنہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا : کیا تم دونوں یہ بات جانتے ہو کہ میں تم دونوں کے درمیان کیوں بیٹھا ہوں ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم لوگ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھو ، تو ان دونوں کو الگ کروا دینا کیونکہ اللہ کی قسم ! یہ دونوں کسی عہد شکنی پر ہی اکٹھے ہوں گے ۔ “ ( پھر سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں تم دونوں کو الگ کروا دوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن یعلیٰ بن شداد ہے ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔