مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابُ مَا جَاءَ فِي الصُّلْحِ وَمَا كَانَ بَعْدَهُ . باب: صلح کے بارے میں اور اس کے بعد جو صورتحال ہوئی اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ قَالَ : اسْتَأْذَنَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكُوفَةِ فَحَجَبَهُ مَلِيًّا ، وَعِنْدَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : أَعَنْ هَذَيْنِ حَجَبْتَنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ تَعْلَمُ أَنَّ صَاحِبَهُمْ جَاءَنَا فَمَلَأَنَا كَذِبًا - يَعْنِي عَلِيًّا - فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَاللَّهِ عِنْدَهُ مَهَرَةُ جَدِّكَ ، وَطَعْنٌ فِي اسْتِ أَبِيكَ . فَقَالَ : أَلَا تَسْمَعُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا يَقُولُ ؟ قَالَ : أَنْتَ بَدَأْتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤عیسیٰ بن یزید بیان کرتے ہیں : اشعث بن قیس نے کوفہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اجازت دینے میں ذرا تاخیر کی ، پھر جب وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو سیدنا معاویہ کے پاس سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ، اشعث نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! کیا آپ نے ان دو افراد کی وجہ سے مجھے اندر آنے نہیں دیا ؟ جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے آقا ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہمیں جھوٹ سے بھر دیا ، راوی کہتے ہیں : اس کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان صاحب ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) کے پاس تمہارے دادا کا گھوڑا تھا اور انہوں نے تمہارے باپ پر وار کیا تھا ( یعنی ان صاحب نے اسلام کی سربلندی کی خاطر تمہارے باپ دادا کے ساتھ جنگ کی تھی ) تو اشعث نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! آپ سن رہے ہیں یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بات شروع تم نے کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔