حدیث نمبر: 12075
وَعَنْ أَبِي مِجْلَزٍ قَالَ : قَالَ عَمْرٌو وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ لِمُعَاوِيَةَ : إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَجُلٌ عَيِيٌّ ، وَإِنَّ لَهُ كَلَامًا وَرَأْيًا ، وَإِنَّا قَدْ عَلِمْنَا كَلَامَهُ فَنَتَكَلَّمُ كَلَامَهُ فَلَا يَجِدُ كَلَامًا . قَالَ : لَا تَفْعَلُوا . فَأَبَوْا عَلَيْهِ ، فَصَعِدَ عَمْرٌو الْمِنْبَرَ ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَوَقَعَ فِيهِ ، ثُمَّ صَعِدَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ وَقَعَ فِي عَلِيٍّ . ثُمَّ قِيلَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : اصْعَدْ . فَقَالَ : لَا أَصْعَدُ وَلَا أَتَكَلَّمُ حَتَّى تُعْطُونِي إِنْ قُلْتُ حَقًّا أَنْ تُصَدِّقُونِي ، وَإِنْ قُلْتُ بَاطِلًا أَنْ تُكَذِّبُونِي . فَأَعْطَوْهُ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكَمَا بِاللَّهِ يَا عَمْرُو وَيَا مُغِيرَةُ ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ السَّابِقَ وَالرَّاكِبَ " أَحَدُهُمَا فُلَانٌ ؟ قَالَا : اللَّهُمَّ بَلَى . قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ وَيَا مُغِيرَةُ ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ عَمْرًا بِكُلِّ قَافِيَةٍ قَالَهَا لَعْنَةً ؟ قَالَا : اللَّهُمَّ بَلَى . قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ يَا عَمْرُو وَيَا مُعَاوِيَةُ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ قَوْمَ هَذَا ؟ قَالَا : بَلَى . قَالَ الْحَسَنُ : فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي وَقَعْتُمْ فِيمَنْ تَبَرَّأَ مِنْ هَذَا ، قَالَ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى السَّاجِيِّ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : أَحَدُ الْأَثْبَاتِ مَا عَلِمْتُ فِيهِ جَرْحًا أَصْلًا ، وَقَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ : مُخْتَلَفٌ فِيهِ فِي الْحَدِيثِ ، وَثَّقَهُ قَوْمٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابومجلز بیان کرتے ہیں سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما ایک کمزور رائے شخص ہیں اور ان کا ایک مخصوص موقف ہے ، ہم ان کے موقف کو جانتے ہیں ، ہم اس حوالے سے کلام کر لیں گے ، تو ان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں رہے گا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ ایسا نہ کرو ! لیکن ان لوگوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات نہیں مانی ، پھر سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان پر تنقید کی ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر تنقید کی ، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے یہ کہا: گیا : آپ منبر پر چڑھیں ، تو انہوں نے فرمایا : میں ( اس وقت تک منبر پر ) نہیں چڑھوں گا اور اس وقت تک بات چیت نہیں کروں گا ، جب تک تم میرے ساتھ یہ طے نہیں کرتے کہ اگر میں نے سچ بات بیان کی ، تو تم میری تصدیق کرو گے اور اگر میں نے غلط بات بیان کی ، تو تم مجھے جھٹلا دو گے ، لوگوں نے ان کے ساتھ یہ طے کر لیا ، وہ منبر پر چڑھئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : اے عمرو ! اور اے مغیرہ ! میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” ہانک کر لے جانے والے اور سوار شخص پر ، اللہ تعالیٰ لعنت کرے ۔ “ اور ان دونوں میں سے ایک شخص فلاں تھا ، ان دونوں صاحبان نے جواب دیا ، اللہ جانتا ہے ایسا ہی ہے ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے معاویہ اور اے مغیرہ ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے عمرو ( بن العاص ) پر لعنت کی تھی ، ان دونوں نے جواب دیا ، اللہ جانتا ہے جی ہاں ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عمرو ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اور اے معاویہ بن ابوسفیان ! آپ سے بھی دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے اس قوم پر لعنت کی ہے ، ان دونوں نے جواب دیا ، جی ہاں ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات پر اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے جن صاحب پر تنقید کی تھی وہ اس چیز سے لاتعلق ہیں ( کہ اللہ کے رسول نے ان پر لعنت کی ہو ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد زکریا بن یحیی ساجی کے حوالے سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں یہ مثبت راویوں میں سے ایک ہے ، مجھے اس کے بارے میں سرے سے کسی جرح کا علم نہیں ہے ، ابن قطان کہتے ہیں حدیث کے بارے میں اس شخص کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، ایک قوم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12075
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2698)»