مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ زُودِيٍّ قَالَ : خَطَبَهُمْ عَلِيٌّ ، فَقَطَعُوا عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ ، وَضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا كَمَثَلِ ثَلَاثَةِ أَثْوَارٍ [ أَسَدٍ ] اجْتَمَعْنَ فِي أَجَمَةٍ أَسْوَدَ ، وَأَحْمَرَ ، وَأَبْيَضَ ، فَكَانَ الْأُسْدُ إِذَا أَرَادُوا وَاحِدًا مِنْهُمُ اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ ، فَامْتَنَعْنَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ الْأُسْدُ لِلْأَسْوَدِ ، وَالْأَحْمَرِ : إِنَّمَا يَفْضَحُنَا وَيُشَهِّرُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ الْأَبْيَضُ ، فَدَعَانِي حَتَّى آكُلَهُ ، فَلَوْنُكُمَا عَلَى لَوْنِي ، وَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكُمَا ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ الْأَسَدُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَتَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ : إِنَّمَا يَفْضَحُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ الْأَحْمَرُ ، فَدَعْنِي حَتَّى آكُلَهُ ، فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكَ ، وَلَوْنُكَ عَلَى لَوْنِي ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ : إِنِّي آكِلُكَ . قَالَ : دَعْنِي أُصَوِّتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعُمَيْرٌ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤عمیر بن زودی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو خطبہ دیا ، پھر اس خطبہ کے دوران انہوں نے اس خطبے کو روک دیا اور بولے : جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس دن میں کمزور ہو گیا تھا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے مثال بیان کی ، جیسے تین بیل ہوتے ہیں اور ایک شیر ہوتا ہے ، وہ ایک علاقے میں اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک بیل سیاہ رنگ کا ہے اور ایک سرخ رنگ کا ہے ، ایک سفید رنگ کا ہے ، شیر جب ان میں سے کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اسے روک دیتے ہیں ، تو شیر سیاہ اور سرخ بیل سے یہ کہتا ہے : ہمارے اس علاقے میں یہ سفید بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تو تم لوگ مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لوں ، تم دونوں کا رنگ تو میرے جیسا ہے اور میرا رنگ تم دونوں کے رنگ جیسا ہے ، پھر شیر اس پر حملہ کر کے اسے کھا لیتا ہے ، تھوڑی دیر بعد وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے : ہمارے اس علاقے میں یہ سرخ رنگ کا بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تم مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لیتا ہوں ، کیونکہ میرا اور تمہارا رنگ تو ایک جیسا ہے اور تمہارا اور میرا رنگ ایک جیسا ہے ، پھر وہ اس بیل پر حملہ کر کے اسے بھی کھا لیتا ہے ، پھر وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے : اب میں تمہیں کھاؤں گا ، تو سیاہ بیل کہتا ہے : تم مجھے موقع دو کہ میں تین مرتبہ بلند آواز میں کچھ کہوں ، پھر وہ بیل کہتا ہے : میں اُسی دن کھایا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ، خبردار ! میں اُسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ، خبردار ! میں اسی دن کھایا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ۔ ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) : خبردار ! میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ہی کمزور ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔