مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَنْ ذَكَرَ أَنَّهُ شَهِدَ الْجَمَلَ أَوْ صِفِّينَ . باب: ان لوگوں کا بیان ، جنہوں نے جنگ جمل ، یا جنگ صفین میں حصہ لیا
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : أُسَيْدُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو عَمْرَةَ ، وَيُقَالُ : يَسِيرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِحْصَنٍ ، وَيُقَالُ : ثَعْلَبَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مِحْصَنٍ ، وَيُقَالُ : عَمْرُو بْنُ مِحْصَنٍ مِنْ بَنِي مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ ، وَيُقَالُ : إِنَّ أَبَا عَمْرَةَ أَعْطَى عَلِيًّا مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ أَعَانَهُ بِهَا يَوْمَ الْجَمَلِ ، وَقُتِلَ يَوْمَ صِفِّينَ جَبَلَةُ بْنُ عَمْرٍو ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ عَمْرِو بْنِ غَزِيَّةَ ، وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْقِتَالِ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَتُرِيدُونَ أَنْ نَقُولَ لِرَبِّنَا إِذَا لَقِينَاهُ : رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا ؟ ، وَحَنْظَلَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، وَخَالِدُ بْنُ أَبِي دُجَانَةَ ، وَخُوَيْلِدُ بْنُ عَمْرٍو ، بَدْرِيٌّ مَنْ بَنِي سَلَمَةَ ، وَرَبِيعَةُ بْنُ قَيْسِ بْنِ عَدْوَانَ ، وَرَبِيعَةُ بْنُ عَبَّادٍ الدُّؤَلِيُّ . ذَكَرَهُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ ، وَفِي الْإِسْنَادِ إِلَيْهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤امام طبرانی بیان کرتے ہیں : ان میں سے ایک سیدنا اُسید بن مالک ابوعمرہ رضی اللہ عنہ ہیں ، یہ بات کہی جاتی ہے ایک صاحب سیدنا یسیر بن عمرو محصن رضی اللہ عنہ ہیں ، اور ایک روایت کے مطابق سیدنا ثعلبہ بن عمرو بن محصن رضی اللہ عنہ اور ایک روایت کے مطابق سیدنا عمرو بن محصن رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کا تعلق بنو مازن بن نجار سے ہے ، ایک روایت کے مطابق ابوعمرہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو جنگ صفین کے دن ایک لاکھ درہم دیے تھے ، وہ ان کے ذریعے جنگ جمل کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مدد کرنا چاہ رہے تھے ، جنگ صفین کے موقع پر سیدنا جبلہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سیدنا حجاج بن عمرو غزیہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے ، یہ وہ صاحب تھے جنہوں نے جنگ کے موقع پر یہ کہا: تھا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جب ہم اپنے پرودگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں ، تو اس سے یہ کہیں : اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی تھی ، تو انہوں نے ہمیں راستے سے بھٹکا دیا ۔ ایک صاحب سیدنا حنظلہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ہیں ، ایک صاحب سیدنا خالد بن خالد رضی اللہ عنہ ، ایک صاحب سیدنا خالد بن ابودجانہ رضی اللہ عنہ ہیں ، سیدنا خویلد بن عمرو رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف ہے اور وہ بنو سلمہ سے تعلق رکھتے ہیں ، سیدنا ربیعہ بن قیس بن عدوان رضی اللہ عنہ ہیں ، سیدنا ربیعہ بن عباد دؤلی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ان سب کا ذکر عبیداللہ بن ابورافع نے کیا ہے ، اور ان تک سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔