مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ قَالَ : فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا أَوْ رَقِيَ عَلَى أَكَمَةٍ أَوْ هَبَطَ وَادِيًا قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا ، أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا ، أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ قُلْتَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنَّا ، وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ : وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ ، وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا فِي عُثْمَانَ فَقَتَلُوهُ ، فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا أَوْ فِعْلًا مِنِّي ، ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ . ¤قیس بن عباد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، وہ جب بھی کسی جنگ میں حصہ لیتے تھے ، یا جب کسی ٹیلے پر چڑھتے تھے ، یا کسی نشیبی علاقے میں اُتر رہے ہوتے تھے ، تو یہ کہا: کرتے تھے : سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے بنو یشکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کہا: تم ہمارے ساتھ امیرالمؤمنین کے پاس چلو ! تاکہ ہم ان سے ان کے اس جملے کے بارے میں دریافت کریں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ہم نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ جنگ میں حصہ لیتے ہیں ، یا جب کسی نشیبی جگہ پر اتر رہے ہوتے ہیں ، یا جب کسی ٹیلے پر چڑھ رہے ہوتے ہیں ، تو آپ یہ فرماتے ہیں : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، تو کیا اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خصوصی تلقین کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے ہم سے منہ پھیر لیا ، ہم نے ان کی خدمت میں اہتمام سے گزارش کی ، جب انہوں نے یہ چیز ملاحظہ فرمائی ، تو یہ ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی خصوصی تلقین نہیں کی ، وہی امور ہیں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تلقین کیے تھے ، لیکن جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوئے اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، تو میرے علاوہ دوسرے لوگ حالت کے اعتبار سے اور طرز عمل کے اعتبار سے زیادہ برے تھے ، پھر میں نے یہ بات دیکھی کہ حکومت کا ، میں ان سب سے زیادہ حق دار ہوں ، تو میں نے حکومت کو اختیار کر لیا ، اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط کیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے وہ خراب حافظے مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔