مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
وَعَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ : قُتِلَ عَمَّارٌ ، فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ " . فَقِيلَ لِعَمْرٍو : فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ ؟ قَالَ : إِنَّمَا قَالَ : " قَاتِلُهُ وَسَالِبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَمَّارٍ وَسَلَبِهِ ، فَقَالَ : خَلِّيَا عَنْهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ " ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ابوغادیہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اس نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، پھر جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس ( یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان لینے والا شخص ، جہنم میں جائے گا ۔ “ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : آپ بھی تو ان کے خلاف جنگ کر ہی رہے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار کے قاتل اور اس کا سامان لینے والے کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے کہ دو آدمی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قتل اور ان کے سامان کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو چھوڑ دو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمار کا قاتل اور اُس کا سامان لینے والا شخص ، جہنم میں جائے گا ۔ “ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔