حدیث نمبر: 12063
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ ، يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُهُ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا بَالُكَ مَعَنَا ؟ قَالَ : إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ " ، فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

حنظلہ بن خویلد عنبری بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران دو افراد ان کے پاس آئے وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، ان میں سے ہر ایک کا یہ کہنا تھا : میں نے انہیں شہید کیا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے مقابلے میں دست بردار ہو جائے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں ہیں ؟ تو سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ اللہ نے بتایا : میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” تمہارا والد جب تک زندہ رہے گا ، تم اس کی اطاعت کرتے رہنا اور اس کی نافرمانی نہ کرنا ۔ “ تو میں آپ لوگوں کے ساتھ آ تو گیا ہوں ، لیکن میں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12063
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (164/2)»