حدیث نمبر: 12062
وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ : كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى [ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ] بْنِ عَامِرٍ ، فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فَذَكَرَ [ هَذَا ] الْحَدِيثَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا - شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ - يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ ، قَالَ : فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ مِنْ جُرَيَانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ ، فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ . قَالَ : فَقُلْتُ : [ وَأَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ ] يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ ، وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا أَتَمَّ مِنْهُ ، وَيَأْتِي فِي فَضْلِ عَمَّارٍ . ¤
محمد محی الدین

کلثوم بن جبر بیان کرتے ہیں : ہم ” واسط القصب “ کے مقام پر عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے پاس موجود تھے ، ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے ، جن کا نام ابوغادیہ تھا ، انہوں نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، ان کے پاس ایک ایسے برتن میں پانی لایا گیا ، جس پر سونا یا چاندی لگے ہوئے تھے ، تو انہوں نے اس میں پینے سے منع کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ میرے بعد کافر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ۔ “ ان صاحب نے بتایا کہ ایک شخص فلاں صاحب کو برا کہہ رہا تھا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر کسی جنگ کے دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے تم پر ق ابودے دیا تو پھر دیکھنا ، پھر جنگ صفین کا موقع آیا ، تو وہ شخص میرے سامنے آ گیا ، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی ، مجھے زرہ کے درمیان میں سے ایک جگہ کھلی نظر آئی ، تو میں نے وہاں نیزہ مار کے اسے قتل کر دیا ، وہ شخص عمار بن یاسر تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: یہ بھی عجیب آدمی ہے کہ سونا یا چاندی لگے ہوئے برتن میں پینے کو مکروہ سمجھتا ہے ، اور اس نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید بھی کر دیا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، یہ روایت انہوں نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ، جو اس سے زیادہ روایت ہے اور وہ آگے چل کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12062
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (76/4)»