مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : قِيلَ لِعَمَّارٍ : قَدْ هَاجَرَ أَبُو مُوسَى ، وَاللَّهِ لَيُخْذَلَنَّ جُنْدُهُ ، وَلَيَفِرَّنَّ جَهْدُهُ ، وَلَيُنْقَضَنَّ عَهْدُهُ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى قَوْمًا لَيَضْرِبُنَّكُمْ ضَرْبًا يَرْتَابُ لَهُ الْمُبْطِلُونَ ، وَاللَّهِ لَوْ قَاتَلُوا حَتَّى بَلَغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبَنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے لاتعلقی اختیار کی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اس کا لشکر ضرور رسوائی کا شکار ہو گا ، اس نے کوشش سے فرار اختیار کیا ہے اور اپنے عہد کو توڑ دیا ہے ، اللہ کی قسم ! میں دشمن کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ اگر وہ تمہیں ایسی ضرب لگائیں جو باطل لوگوں کو شک کا شکار کر دے اور وہ ہمارے ساتھ جنگ کرتے ہوئے ہمیں ” ھجر “ کے بالائی حصے تک لے جائیں ، تو ہمیں یہ بات پتہ ہو گی کہ ہمارے ساتھی حق پر ہیں اور وہ لوگ باطل پر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔