حدیث نمبر: 12058
وَعَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ قَالَ : قَالَتْ بَنُو عَبْسٍ لِحُذَيْفَةَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : آمُرُكُمْ أَنْ تَلْزَمُوا عَمَّارًا . قَالُوا : إِنَّ عَمَّارًا لَا يُفَارِقُ عَلِيًّا . قَالَ : إِنَّ الْحَسَدَ هُوَ أَهْلَكَ الْجَسَدَ ، وَإِنَّمَا يُنَفِّرُكُمْ مِنْ عَمَّارٍ قُرْبُهُ مِنْ عَلِيٍّ ، فَوَاللَّهِ لَعَلِيٌّ أَفْضَلُ مِنْ عَمَّارٍ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ التُّرَابِ وَالسَّحَابِ ، وَإِنَّ عَمَّارًا لَمِنَ الْأَخْيَارِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ إِنْ لَزِمُوا عَمَّارًا كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الْمُبْهَمَ . ¤
محمد محی الدین

سیار ابوحکم بیان کرتے ہیں : بنو عبس نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں ، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ تم لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہو ، لوگوں نے بتایا : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ نہیں ہوتے ہیں ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حسد ، جسم کو ہلاک کر دیتا ہے ، تم لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے اس لئے متنفر ہو رہے ہو کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہیں ، اللہ کی قسم ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے اس سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، جتنا مٹی ( یعنی زمین ) اور بادل کے درمیان فاصلہ ہے ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نیک لوگوں میں سے ایک ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ اگر وہ لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا کے ملیں گے ، تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں مبہم شخص سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12058
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف