مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
حدیث نمبر: 12055
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَاصِرَتِي ، فَقَالَ : " خَاصِرَةٌ مُؤْمِنَةٌ ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، آخِرُ زَادِكَ ضَيَاحٌ مِنْ لَبَنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَسَانِيدُهُ كُلُّهَا فِيهَا ضَعْفٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا كَثِيرَةٌ فِي مَنَاقِبِ عَمَّارٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میرے پہلو پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ” یہ ایک مومن پہلو ہے ، تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور تمہاری آخری خوراک پانی ملا ہوا ، دودھ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی بہت سی احادیث سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔