مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
حدیث نمبر: 12051
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى أُنَاسٍ هَدَايَا ، فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ الْهَدِيَّةِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے لوگوں کو کچھ تحائف دیے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کچھ اضافی ادائیگی کی ، اُن سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں صرف تحفہ دینے کا ذکر ہے ۔