مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
حدیث نمبر: 12050
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : مَا زَالَ جَدِّي كَافًّا سِلَاحَهُ حَتَّى قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّينَ ، فَسَلَّ سَيْفَهُ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤محمد محی الدین
محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت بیان کرتے ہیں : میرے والد مسلسل اپنے ہتھیاروں کو روک کے رکھتے رہے ( یعنی انہوں نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا ) یہاں تک کہ جب صفین کے مقام پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو میرے والد نے اپنی تلوار نکال لی اور جنگ میں حصہ لیا ، یہاں تک کہ شہید ہو گئے ، انہوں نے یہ بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ کمزور ہے ۔