مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : كَانَ عَمَّارٌ قَدْ وَلِعَ بِقُرَيْشٍ وَوَلِعَتْ بِهِ ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَضَرَبُوهُ ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ بِعَصًا ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا لِي وَلِقُرَيْشٍ ، فَعَلَ اللَّهُ بِقُرَيْشٍ وَفَعَلَ ، فَغَدَوْا عَلَى رَجُلٍ فَضَرَبُوهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ بِاخْتِصَارِ الْقِصَّةِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الرَّمْلِيُّ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤زید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قریش کے کچھ لوگوں سے جھگڑا ہو گیا ، وہ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کی پٹائی کی ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکلے ان کے پاس عصا تھا ، وہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میرا قریش کے ساتھ کیا واسطہ ؟ اللہ تعالیٰ قریش کے ساتھ یہ یہ کرے اور وہ کرے ۔ “ یہ لوگ ایک شخص کے پاس گئے اور اُس کی پٹائی کی ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں واقعہ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بدیل رملی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔