حدیث نمبر: 12049
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ : قُتِلَ عَمَّارٌ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ [ فَزِعًا ] يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : [ مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : قُتِلَ عَمَّارٌ ] . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ ، فَمَاذَا ؟ قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : دَحَضْتَ فِي بَوْلِكَ ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ ، إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا ، أَوْ قَالَ : بَيْنَ سُيُوفِنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحْمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “ تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں کھڑے ہوئے اور وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، تو کیا ہوا ؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ غلط بات کر رہے ہیں ، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے انہیں قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آئے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے اُن صاحب کو ہمارے نیزوں کے درمیان ڈال دیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہماری تلواروں کے درمیان ڈال دیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12049
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7176 و 7175) اخرجه احمد فى المسند (199/4)»