مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَهُمْ يَوْمَ صِفِّينَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ ، وَقَدْ وَكَّلْنَا بِفَرَسِهِ رَجُلَيْنِ ، فَكَانَتْ إِذَا كَانَتْ مِنَ الرَّجُلِ غَفْلَةٌ غَمَزَ عَلِيٌّ فَرَسَهُ فَإِذَا هُوَ فِي عَسْكَرِ الْقَوْمِ فَيَرْجِعُ إِلَيْنَا وَقَدْ خَضَّبَ سَيْفَهُ دَمًا وَيَقُولُ : يَا أَصْحَابِي ، اعْذُرُونِي اعْذُرُونِي . فَكُنَّا إِذَا تَوَادَعْنَا دَخَلَ هَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ ، فَكَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ عَلَمًا لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَسْلُكُ عَمَّارٌ وَادِيًا مِنْ أَوْدِيَةِ صِفِّينَ إِلَّا تَبِعَهُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيْنَا إِلَى هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَقَدْ رَكَزَ الرَّايَةَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا هَاشِمُ أَعَوَرًا وَجُبْنًا ؟ لَا خَيْرَ فِي أَعْوَرَ لَا يَغْشَى النَّاسَ . فَنَزَعَ هَاشِمٌ الرَّايَةَ وَهُوَ يَقُولُ : أَعْوَرُ يَبْغِي أَهْلَهُ مَحَلًّا ¤ قَدْ عَالَجَ الْحَيَاةَ حَتَّى مَلَّا ¤ لَا بُدَّ أَنْ يَفِلَّ أَوْ يُفَلَّا . ¤ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : أَقْبِلْ ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ الْأَبَارِقَةِ ، وَقَدْ تَزَيَّنَ الْحُورُ الْعِينُ مَعَ مُحَمَّدٍ وَحِزْبِهِ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى . فَمَا رَجَعَا حَتَّى قُتِلَا . وَكُنَّا إِذَا تَوَادَعْنَا دَخَلَ هَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَرْبَعَةٌ يَسِيرُونَ : مُعَاوِيَةُ ، وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَابْنُهُ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : إِنْ أَخَذْتُ عَنْ يَمِينِي اثْنَيْنِ لَمْ أَسْمَعْ كَلَامَهُمْ ، فَاخْتَرْتُ لِنَفْسِي أَنْ أَضْرِبَ فَرَسِي فَأُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ ، فَفَعَلْتُ ، فَجَعَلْتُ اثْنَيْنِ عَنْ يَمِينِي وَاثْنَيْنِ عَنْ يَسَارِي ، فَجَعَلْتُ أُصْغِي بِسَمْعِي أَحْيَانًا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَإِلَى أَبِي الْأَعْوَرِ ، وَأَحْيَانًا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَإِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ لِأَبِيهِ : يَا أَبَتِ ، قَدْ قَتَلْنَا هَذَا الرَّجُلَ ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ . قَالَ : وَأَيُّ رَجُلٍ ؟ قَالَ : عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً ، وَعَمَّارٌ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ ، وَأَنْتَ تَرْحَضُ : " أَمَا إِنَّهُ سَتَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اسْكُتْ ، فَوَاللَّهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ ، إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءُوا بِهِ فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا . قَالَ : فَتَنَادَوْا فِي عَسْكَرِ مُعَاوِيَةَ : إِنَّمَا قَتَلَ عَمَّارًا مَنْ جَاءَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَالْبَزَّارُ بِقَوْلِهِ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَحْدَهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے ، ہم نے دو آدمیوں کو ان کے گھوڑے کا نگران مقرر کیا ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان افراد کی طرف سے تھوڑی سی غفلت نظر آئی ، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور دشمن کے لشکر میں چلے گئے ، جب وہ واپس آئے تو ان کی تلوار پر خون لگا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: اے میرے ساتھیو ! مجھے معذور سمجھو ، مجھے معذور سمجھو ، کیونکہ ہم نے جب طے کیا تو ادھر کے کچھ لوگ اس لشکر میں داخل ہو گئے ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لئے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نشان کی حیثیت رکھتے ہیں ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ صفین کی جس بھی وادی میں چلیں گے ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کے پیچھے جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ ہاشم بن عتبہ بن ابووقاص کے پاس آئے ، جس نے جھنڈا لہرایا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: اے ہاشم ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ کیا تم کانے یا بزدل ہو ؟ ایسے کانے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جو لوگوں پر حملہ نہ کر سکے ، تو ہاشم نے جھنڈا الگ کیا اور یہ اشعار پڑھے : ” کانا شخص اپنی بیوی کے لیے راستہ تلاش کرتا ہے ، وہ یوں زندگی گزارتا ہے کہ اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے ، تو یہ ضروری ہے کہ وہ حدت کو ختم کرے یا اس کو ختم کر دیا جائے ۔ “ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: تم آگے آؤ ! کیونکہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ، اور حورعین آراستہ ہو چکی ہیں جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ رفیق اعلیٰ میں ہیں ، راوی کہتے ہیں : پھر ہمارے واپس آنے سے پہلے وہ دونوں شہید ہو گئے ، جب ہم ایک دوسرے کے مدمقابل آئے اور لشکر ایک دوسرے کے ساتھ ملے ، تو میں نے دیکھا ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے جا رہے ہیں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اعور سلمی رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے ( سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ) میں نے دل میں سوچا کہ اگر میں دائیں طرف ہو کے جاتا ہوں ، تو میں ان لوگوں کا کلام نہیں سن سکوں گا ، تو میں نے یہ کیا کہ میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی ، اور ان کے درمیان آ گیا ، تو دو افراد میرے دائیں طرف ہو گئے اور دو افراد میرے بائیں طرف ہو گئے ، میں نے توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابواعور رضی اللہ عنہ کیا بات کر رہے ہیں ؟ اور یہ بھی توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کیا بات کر رہے ہیں ؟ تو میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابا جان ! ہم نے ان صاحب ( یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) کو شہید کر دیا ہے ، جبکہ ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مخصوص بات ارشاد فرمائی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : کون سے صاحب ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جب آپ مسجد تعمیر کروا رہے تھے اور ہم ایک ایک اینٹ اُٹھا کے لا رہے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اُٹھا کے لا رہے تھے اور آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ گومگو کا شکار تھے ( یعنی اس وقت آپ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا تھا : ” عنقریب ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا اور تم اہل جنت میں سے ہو گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم نے ان صاحب کو قتل کر دیا ہے جبکہ ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، جو فرمائی ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سے صاحب ؟ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی تعمیر کروا رہے تھے اور ہم ایک ایک اینٹ منتقل کر رہے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کر رہے تھے ، اس دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابویقظان ! کیا تم دو دو اینٹیں اٹھا رہے ہو ، عنقریب ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا اور تم اہل جنت میں سے ہو گے ۔ “ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ خاموش ہو جائیں ! اللہ کی قسم ! آپ الٹی بات کر رہے ہیں ، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہیں تو اُن لوگوں نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں لے کے آئے تھے اور انہیں ہمارے دو نیزوں کے درمیان ڈال دیا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے درمیان یہ بات پھیل گئی کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اس شخص نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں لے کر ( میدان جنگ میں ) آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے امام طبرانی کی مانند نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے روایت کے یہ الفاظ : ” عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔ “ یہ الفاظ صرف سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کئے ہیں ، امام أحمد اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔