مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي يَوْمِ الْجَرَعَةِ . باب: یوم جرعہ کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أَبِي ثَوْرٍ الْحُدَّانِيِّ قَالَ دَفَعْتُ إِلَى حُذَيْفَةَ ، وَأَبِي مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ يَقُولُ : وَاللَّهِ مَا كُنْتُ أَرَى أَنْ تَرْتَدَّ عَلَى عَقِبَيْهَا وَلَمْ يُهْرَاقَ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ . فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَكِنْ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهَا سَتَرْتَدُّ عَلَى عَقِبَيْهَا وَإِنَّهُ يُهْرَاقُ فِيهَا مِحْجَمَةٌ مِنْ دَمٍ ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصْبِحُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، فَيَنْكُسُ قَلْبُهُ فَتَعْلُوهُ اسْتُهُ ، يُقَاتِلُ فِي الْفِتْنَةِ الْيَوْمَ وَيَقْتُلُهُ اللَّهُ غَدًا . فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : صَدَقْتَ ، هَكَذَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْفِتْنَةِ . ¤ رَوَاهُ وَالَّذِي قَبْلَهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ثَوْرٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوثور حدانی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے : اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ معاملہ اس وقت تک ختم ہو گا ، جب تک اس میں خون نہیں بہایا جاتا ، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ معاملہ ختم ہو جائے گا اور اس میں قتل و غارت گری نہیں ہو گی ، ایک شخص صبح کے وقت مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا ، یا شام کے وقت مومن ہو گا اور صبح کے وقت کافر ہو جائے گا ، اس کا دل اُلٹ جائے گا اور اس کی پشت اوپر آ جائے گی ، وہ شخص جو آج فتنے کے بارے میں جنگ کر رہا ہے ، کل اللہ تعالیٰ اسے مار دے گا ، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا: ہے ، فتنے کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی طرح حدیث بیان کی ہے ۔
یہ روایت اور اس سے پہلے والی روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوثور کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔