مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسُّكُوتِ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ . باب: اس چیز کا بیان کہ جو چیز نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان باہمی طور پر ہوئی اور ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 11988
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : جَعَلَتْ رُءُوسُ هَذِهِ الْخَوَارِجِ تَجِيءُ فَأَقُولُ إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ : مَا يُدْرِيكَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " جَعَلَ اللَّهُ عَذَابَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي دُنْيَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِاخْتِصَارٍ وَالْأَوْسَطِ كَذَلِكَ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
ابوبردہ بیان کرتے ہیں : خوارج کے سر لائے گئے ، تو میں نے یہ کہا: یہ جہنم میں جائیں گے ، تو سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں کیا پتہ ( کہ کیا ہو گا ؟ ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کا عذاب ، اُن کی دنیا میں رکھ دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم صغیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اسی طرح نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔