مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسُّكُوتِ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ . باب: اس چیز کا بیان کہ جو چیز نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان باہمی طور پر ہوئی اور ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا
حدیث نمبر: 11987
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ : خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، فَرَأَيْتُهُ يُعَاقَبُ عُقُوبَةً شَدِيدَةً ، فَجَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عُقُوبَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالسَّيْفِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس سے نکلا ، میں نے اسے دیکھا کہ وہ شدید ترین سزا دے رہا ہے ، پھر میں ایک صحابی کے پاس آ کر بیٹھا ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس امت کی سزا ، تلوار کے ذریعے ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔