مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسُّكُوتِ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ . باب: اس چیز کا بیان کہ جو چیز نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان باہمی طور پر ہوئی اور ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا
وَعَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَقِيَ الزُّبَيْرَ فِي السُّوقِ ، فَتَعَاتَبَا فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ ، ثُمَّ أَغْلَظَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ لِي . فَضَرَبَهُ الزُّبَيْرُ حَتَّى وَقَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی ملاقات بازار میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں اُن دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تکرار کی ، اُس کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے سختی سے بولنے لگے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ سن نہیں رہے ہیں ؟ یہ جو مجھ سے کہہ رہا ہے ؟ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ضرب لگائی ، یہاں تک کہ وہ گر گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔