مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ بَيْنَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالسُّكُوتِ عَمَّا شَجَرَ بَيْنَهُمْ . باب: اس چیز کا بیان کہ جو چیز نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے درمیان باہمی طور پر ہوئی اور ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا
وَعَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : جَاءَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ إِلَى عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالُوا : إِنَّ إِخْوَانَكَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ يَسْأَلُونَكَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ، فَقَالَ : وَمَا أَقْدَمَكُمْ شَيْءٌ غَيْرَ هَذَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ابوراشد بیان کرتے ہیں : اہل بصرہ میں سے کچھ افراد عبید بن عمیر کے پاس آئے ، انہوں نے یہ کہا: اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والے آپ کے بھائیوں نے ، آپ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا ہے ، انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ صرف اسی مقصد کے لئے آئے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ ایک ایسی امت ہے جو گزر چکی ہے ، اس نے جو کمایا تھا اس کا اجر نہیں مل جائے گا ، اور تم جو کماؤ گے اس کا اجر تمہیں ملے گا ، وہ لوگ جو عمل کرتے ہیں ، اس کے بارے میں تم سے حساب نہیں لیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔