مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یا وہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تم ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے لگو “۔
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ زَوَى لِيَ الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا [ وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا ] ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَبْيَضَ وَالْأَحْمَرَ ، وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيُهْلِكَهُمْ بِعَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ . فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً [ فَإِنَّهُ ] لَا يُرَدُّ ، وَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ ، وَأَنْ لَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا [ مِمْنَ سِوَاهُمْ ] فَيُهْلِكُوهُمْ بِعَامَّةٍ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا " . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ ، وَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَا يُرْفَعُ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو لپیٹ دیا ، تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا ، اور زمین کا جتنا حصہ میرے لئے لپیٹا گیا تھا ، میری اُمت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی ، مجھے سفید اور سرخ دو قسم کے خزانے عطا کیے گئے ، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا کی : وہ میری امت کو عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، اور وہ ان لوگوں پر ان کے دشمن کو یوں مسلط نہ کرے کہ وہ لوگ عمومی طور پر ہلاکت کا شکار ہو جائیں ، اور وہ انہیں باہمی اختلاف کا شکار نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچائیں ، تو پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! جب میں کوئی فیصلہ دے دوں ، تو اُسے ختم نہیں کیا جا سکتا ، میں نے تمہیں تمہاری امت کے حوالے سے یہ چیز دیدی ہے کہ میں عمومی قحط کے ذریعے انہیں ہلاک نہیں کروں گا اور میں ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہیں کروں گا کہ وہ دشمن انہیں عمومی طور پر ہلاک کر دے ، البتہ وہ لوگ ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے اور ایک دوسرے کو قیدی بنائیں گے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں صرف گمراہ کرنے والے حکمرانوں کے بارے میں اندیشہ ہے ، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی ، تو وہ قیامت کے دن تک اُن سے نہیں اُٹھائی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔