مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ یا وہ تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تم ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے لگو “۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ : جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ - قَرْيَةٌ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ - فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسْجِدِكُمْ هَذَا ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَأَشَارَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ . فَقُلْتُ : دَعَا " بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ ، وَأَنْ لَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ " . فَأُعْطِيهِمَا . وَدَعَا " بِأَنْ لَا يُجْعَلَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ" . فَمُنِعَهَا . قَالَ : صَدَقْتَ . فَلَا يَزَالُ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس بنو معاویہ کے علاقے میں آئے ، راوی کہتے ہیں : یہ انصار کی بستیوں میں سے ایک بستی ہے ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس مسجد میں کہاں نماز ادا کی تھی ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر میں نے مسجد کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جو دعا مانگی تھی ، اس میں وہ تین چیزیں کیا تھیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : تم مجھے ان کے بارے میں بتاؤ ! میں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر ان کے دشمن کو غلبہ عطا نہ کرے ، اور انہیں قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، تو یہ دونوں چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کر دی گئیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی کہ وہ لوگ ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچائیں ، تو یہ چیز قبول نہیں ہوئی ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا: ہے ، اور قیامت کے دن تک مسلسل ( مسلمانوں کے درمیان باہمی طور پر ) قتل و غارت گری ہوتی رہے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔