مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ الدِّيَاتِ فِي الْأَعْضَاءِ وَغَيْرِهَا . باب: اعضاء اور دیگر کی دیتوں کا بیان
وَعَنْ عُوَيْمِرٍ قَالَ : كَانَتْ أُخْتِي مُلَيْكَةُ وَامْرَأَةٌ مِنَّا يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَفِيفٍ بِنْتُ مَسْرُوحٍ تَحْتَ حَمَلِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَضَرَبَتْ أُمُّ عَفِيفٍ مُلَيْكَةَ بِمِسْطَحِ بَيْتِهَا ، وَهِيَ حَامِلٌ فَقَتَلَتْهَا وَذَا بَطْنِهَا . ¤ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهَا بِالدِّيَةِ ، وَفِي جَنِينِهَا بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدٍ ، فَقَالَ أَخُوهَا الْعَلَاءُ بْنُ مَسْرُوحٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَغْرَمُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ ؟ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میری بہن ملیکہ اور ہمارے خاندان کی ایک عورت ام عفیف بنت مسروح ، یہ حمل بن نابغہ کی بیویاں تھیں اُم عفیف نے ملیکہ کو اپنے گھر میں موجود ایک لکڑی ماری ملیکہ حاملہ تھی اس کے نتیجے میں وہ قتل ہو گئی اور اس کے پیٹ میں بچہ بھی موجود تھا ( وہ بھی مارا گیا ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( عورت کے بارے ) میں دیت کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور اس کے پیٹ کے بچے کے بارے میں ایک غلام یا لڑکے ( یعنی غلام کے بچے یا کنیز ) کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تو اس عورت کے بھائی علاء بن مسروح نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس ( بچے ) کا تاوان دیا جائے گا جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ بولا: نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ زمانہ جاہلیت کی سجع گفتگو کی طرح سجع کی جا رہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔