مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَاقِلَةِ . باب: عاقلہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ : كَتَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عَقُولَةً ، ثُمَّ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يَتَوَلَّى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَفِيهِ : عَقْلُ الْأَخِ دُونَ الْوَلَدِ . ¤ابوزبیر بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک بطن ( یعنی قبیلے کی ذیلی شاخ ) پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی تھی پھر آپ نے یہ طے کیا کہ یہ بات حلال نہیں ہے کہ کسی شخص کا آزاد کردہ غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے ابوملیح کے حوالے سے ان کے والد سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ، اور اس میں یہ بات مذکور ہے کہ ( عورت کی طرف سے ) دیت بھائی ادا کرے گا بیٹا ادا نہیں کرے گا ۔