مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ الدِّيَاتِ فِي الْأَعْضَاءِ وَغَيْرِهَا . باب: اعضاء اور دیگر کی دیتوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَتْ فِينَا امْرَأَتَانِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا ، وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَقَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَرْأَةِ بِالْعَقْلِ ، وَفِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ أَوْ بِفَرَسٍ ، أَوْ بَعِيرَيْنِ مِنَ الْإِبِلِ ، أَوْ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْغَنَمِ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَاتِلَةِ : كَيْفَ نَعْقِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسَجَّاعَةٌ أَنْتَ ؟ " . ¤ وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا ، وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ابوملیح نے اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے : ہمارے درمیان دو خواتین تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی مار کے اسے قتل کر دیا اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو بھی قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بارے میں دیت کی ادائیگی کا اور بچے کے بارے میں ایک غلام یا کنیز یا ایک گھوڑے یا دو اونٹوں یا اتنی اتنی بکریوں کی ادائیگی لازم ہونے کا فیصلہ دیا تو قتل کرنے والی عورت کے خاندان میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم اس ( بچے ) کی دیت کیسے دیں جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم مسجع گفتگو کر رہے ہو ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ عورت کی میراث اس کے شوہر کو ملے گی اور عورت کے بچے کی میراث بھی اسے ملے گی اور دیت کی ادائیگی عورت کے عصبہ لوگوں پر لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔