مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ الدِّيَاتِ فِي الْأَعْضَاءِ وَغَيْرِهَا . باب: اعضاء اور دیگر کی دیتوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ فِينَا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ لَهُ امْرَأَتَانِ : إِحْدَاهُمَا هُذَلِيَّةٌ ، وَالْأُخْرَى عَامِرِيَّةٌ ، فَضَرَبَتِ الْهُذَلِيَّةُ بَطْنَ الْعَامِرِيَّةِ بِعَمُودِ خِبَاءٍ أَوْ فُسْطَاطٍ فَأَلْقَتْ جَنِينًا مَيِّتًا ، فَانْطَلَقَ بِالضَّارِبَةِ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهَا أَخٌ لَهَا ، يُقَالُ لَهُ : عِمْرَانُ بْنُ عُوَيْمِرٍ ، فَلَمَّا قَصُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِصَّةَ ، قَالَ : " دُوهُ " . ¤ فَقَالَ عِمْرَانُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنَدِي مَا لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ ، مِثْلُ هَذَا يُطَلُّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعْنِي مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ ، فِيهِ غُرَّةُ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ، أَوْ خَمْسُمِائَةٍ ، أَوْ فَرَسٌ ، أَوْ عِشْرُونَ وَمِائَةُ شَاةٍ " . ¤ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لَهَا ابْنَيْنِ هُمَا سَادَةُ الْحَيِّ ، وَهُمْ أَحَقُّ أَنْ يَعْقِلُوا عَنْ أُمِّهِمْ ، قَالَ : " أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَعْقِلَ عَنْ أُخْتِكَ مِنْ وَلَدِهَا " . قَالَ : مَا لِي شَيْءٌ أَعْقِلُ فِيهِ ؟ قَالَ : " يَا حَمَلَ بْنَ مَالِكٍ " . وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عَلَى صَدَقَاتٍ لِهُذَيْلٍ وَهُوَ زَوْجُ الْمَرْأَةِ وَأَبُو الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ : " اقْبِضْ مِنْ تَحْتِ يَدِكَ مِنْ صَدَقَاتِ هُذَيْلٍ عِشْرِينَ وَمِائَةَ شَاةٍ " . فَفَعَلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوملیح ہذلی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہمارے درمیان ایک شخص تھا ، جس کا نام حمل بن مالک بن نابغہ تھا اس کی دو بیویاں تھیں جن میں سے ایک ہذیل قبیلے سے تعلق رکھتی تھی اور دوسری بنو عامر سے تعلق رکھتی تھی ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت نے عامر قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت کے پیٹ پر خیمے کی لکڑی کے ذریعے ضرب لگائی تو دوسری عورت نے مردہ بچے کو جنم دیا حمل بن مالک ضرب لگانے والی عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے اس عورت کے ساتھ اس عورت کا بھائی بھی تھا ، جس کا نام عمران بن عویمر تھا جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کی دیت دو تو عمران بن عویمر نے کہا: اے اللہ کے نبی ! کیا ہم اس کی دیت دیں گے جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کے رویا نہیں اس طرح کا خون تو رائیگاں جاتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتیوں کی سی لفاظی مجھ سے دور رکھو ! اس میں غلام یا کنیز کو ادا کرنا لازم ہو گا یا پانچ سو ( اونٹ ادا کیے جائیں ) یا ایک گھوڑا یا ایک سو بیس بکریاں ادا کی جائیں گی “ ۔ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس عورت کے دو بیٹے ہیں ، اور وہ دونوں قبیلے کے سردار ہیں ، اور وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ اپنی ماں کی طرف سے دیت ادا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس عورت کی اولاد کے مقابلے میں تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ اپنی بہن کی طرف سے دیت ادا کرو ۔ اس شخص نے عرض کی : میرے پاس تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو میں دیت کے طور پر ادا کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے حمل بن مالک راوی بیان کرتے ہیں : وہ صاحب ان دنوں ہذیل قبیلے کے صدقات کے نگران تھے اور وہ اس عورت کے شوہر اور عورت کے پیٹ میں موجود مقتول بچے کے والد بھی تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے پاس موجود ہذیل قبیلے کے صدقات میں سے ایک سو بکریاں حاصل کر لو تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منہال بن خلیفہ ہے جس کو امام ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔