حدیث نمبر: 10787
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ قَتَلَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى . . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : وَكَانَتْ حُبْلَى ، قَالَتْ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ : إِنَّهَا كَانَتْ حُبْلَى ، وَأَلْقَتْ جَنِينًا . ¤ قَالَ : فَخَافَ عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ أَنْ يُضَمِّنَهُمْ ، قَالَ : فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا شَرِبَ ، وَلَا أَكَلَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسَجْعُ الْجَاهِلِيَّةِ ؟ ! " . فَقَضَى فِي الْجَنِينِ غُرَّةَ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هَذِهِ الطَّرِيقُ أَحَادِيثُهَا صَالِحَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَدْ ضَعَّفَ مُجَالِدًا جَمَاعَةٌ ، وَالْحَدِيثُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَابْنِ مَاجَهْ دُونَ ذِكْرِ : سَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں وہ آگے چل کر یہ بات بیان کرتے ہیں کہ قتل ہونے والی عورت حاملہ تھی مقتول عورت کے خاندان والوں نے یہ بات بتائی کہ یہ عورت حاملہ تھی اور اس کے پیٹ سے بچہ مردہ پیدا ہوا ہے قتل کرنے والی عورت کے خاندان کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر دیت کی ادائیگی لازم قرار نہ دے دیں ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بچے نے تو کچھ پیا نہیں کچھ کھایا نہیں چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا یہ زمانہ جاہلیت کی مسجع گفتگو کی جا رہی ہے پھر آپ نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے مجالد بن سعید کے حوالے سے امام شعبی سے نقل کی ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس طریق کی روایات صالح ہوتی ہیں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں مجالد نامی راوی کو ایک جماعت نے ضعیف قرار دیا ہے
یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے جس میں زمانہ جاہلیت کی سجع ہونے کے الفاظ نہیں ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1823)»