حدیث نمبر: 10786
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ذَلِكَ فَجَاءَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ ، فَقَالَ : كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِمِسْطَحٍ ، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا ، فَقَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةِ عَبْدٍ ، وَأَنْ تُقْتَلَ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ حَمَلٍ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ مِنْ طَرِيقٍ حَمَلٍ نَفْسِهِ ، وَأَخْرَجَتْهُ لِرِوَايَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ : أَنَّهُ شَهِدَ قَضَاءَ النَّبِيِّ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اس صورت حال کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے وقت موجود تھے حمل بن مالک بن نابغہ آئے اور بولے : میری دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک نے دوسری کو لکڑی ماری اور اس کو اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں جرمانے کے طور پر ایک غلام کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دیا ( کہ عورت کے بدلے میں ) اس کو قتل کر دیا جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث تینوں ” سنن “ میں سیدنا حمل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی منقول ہے ، اور میں نے یہاں اس کو اس لئے نقل کیا ہے کیونکہ اسے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے وقت موجود تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10786
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أحمد فى المسند (3439 و 16789)»