مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا أَوْ أَخَفَرَ ذِمَّةً . باب: جو شخص کسی ذمی کو قتل کر دے یا اسے دی ہوئی پناہ کی خلاف ورزی کرے
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدَةً بِغَيْرِ حَقِّهَا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ رِيحَ الْجَنَّةِ يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ ، وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَلِّلِ بْنِ نُفَيْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ناحق طور پر کسی ذمی کو قتل کر دے وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا اگرچہ جنت کی خوشبو ایک سو سال کی مسافت سے محسوس ہو جاتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ستر سال کی مسافت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن قاسم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال الفتہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف معلل بن نفیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔