مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الديات— دیتوں کے بارے میں روایات
بَابُ الْقَوْمِ يَزْدَحِمُونَ فَيَقَعُ بَعْضُهُمْ فَيَتَعَلَّقُ بِغَيْرِهِ باب: کچھ لوگوں کا ہجوم تھا ان میں سے کوئی شخص ( گڑھے وغیرہ میں گرنے لگا اور اس ) نے دوسرے کو پکڑ لیا
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ ، فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ ، ثُمَّ تَعَلَّقَ بِآخَرَ حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً ، فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ ، فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ ، وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ . ¤ فَقَامَ أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآَخَرِ ، فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتُلُوهُ ، فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ ، فَقَالَ : تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ ، إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ ، وَإِلَّا حَجَرَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ حَتَّى تَأْتُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَكُونَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ ، فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا حَقَّ لَهُ . ¤ اجْمَعُوا لِي مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ ، رُبُعَ الدِّيَةِ ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً ، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ لِأَنَّهُ هَلَكَ مِنْ فَوْقِهِ ، وَالثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ ، وَالثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ ، فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا . ¤ فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : " أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ " . وَاحْتَبَى ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس آیا جنہوں نے شیر کے لئے گڑھا تیار کیا تھا ۔ ابھی وہ وہاں موجود تھے کہ اسی دوران وہ ایک دوسرے کو پرے کرنے لگے ان میں سے ایک شخص ( گڑھے میں گرنے لگا ۔ اس نے دوسرے کو پکڑ لیا دوسرے نے تیسرے کو پکڑ لیا یہاں تک کہ چار افراد اس میں سے گر گئے شیر نے آ کے ان کو زخمی کیا تو باقی لوگوں میں سے ایک نے نیزہ پکڑا اور شیر کو مار دیا وہ چاروں لوگ اس شیر کے زخمی کرنے کی وجہ سے مر گئے پہلے شخص کے پسماندگان دوسرے شخص کے پسماندگان کے پاس آئے اور انہوں نے ہتھیار نکال لئے تاکہ اسے قتل کر دیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے پاس آئے یہ اس واقعہ کے فوراً بعد کی بات ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ تم ایک دوسرے کو قتل کر دو حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان زندہ ہیں میں تم لوگوں کو فیصلہ دیتا ہوں اگر تم لوگ اس سے راضی ہو گئے تو یہی فیصلہ شمار ہو گا ورنہ پھر تم ایک دوسرے کو تصرف سے روک دینا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے درمیان فیصلہ کریں گے کیونکہ اس کے علاوہ اس کی کوئی صورت نہیں ہے جن قبائل کے لوگ اس گڑھے کو کھودنے میں شریک تھے تم ان سے ایک ، ایک چوتھی دیت ایک ، ایک تہائی دیت ایک ، ایک نصف دیت اور ایک مکمل دیت جمع کر کے مجھے دو پہلے شخص کو ایک چوتھائی دیت ملے گی کیونکہ اس نے اپنے اوپر والے شخص کو ہلاکت کا شکار کیا ۔ دوسرے کو ایک تہائی دیت ملے گی تیسرے کو نصف دیت ملے گی ان لوگوں نے اس بات سے راضی ہونے سے انکار کر دیا پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں پھر آپ احتباء کے طور پر تشریف فرما ہوئے حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں فیصلہ دیا ہے پھر انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلے کو برقرار رکھا ۔