مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَوَضَعَ خَمِيصَةً لَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، فَأَتَى سَارِقٌ فَسَرَقَهَا ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ ، فَقَالَ صَفْوَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِيَ لَهُ . قَالَ : " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : صفوان بن امیہ مدینہ منورہ آئے اور وہ مسجد میں سو گئے انہوں نے اپنی چادر اپنے سر کے نیچے رکھی ایک چور آیا اور اس کو چوری کر لیا وہ اس کو پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چور کے بارے میں حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو صفوان نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ چادر اس کی ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو میرے پاس لانے سے پہلے تم نے ایسا کیوں نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔