مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ بِهَا الَّذِينَ سَرَقَتْهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ سَرَقَتْنَا ، قَالَ قَوْمُهَا : فَنَحْنُ نَفْدِيهَا - يَعْنِي أَهْلَهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْطَعُوا يَدَهَا " . ¤ فَقَالُوا : نَحْنُ نَفْدِيهَا بِخَمْسِمِائَةِ دِينَارٍ ، قَالَ " اقْطَعُوا يَدَهَا " فَقُطِعَتْ يَدُهَا الْيُمْنَى ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَنْتِ الْيَوْمَ مِنْ خَطِيئَتِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكِ أُمُّكِ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ : فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ، إِلَى آخَرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت نے چوری کر لی وہ لوگ اسے لے کر آئے جن کے ہاں اس عورت نے چوری کی تھی انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اس عورت نے ہمارے ہاں چوری کی ہے عورت کی قوم نے کہا: ہم اس کا فدیہ دے دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو لوگوں نے کہا: ہم اس کے فدیے میں پانچ سو دینار دیدیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو اس عورت کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں تم اپنے اس گناہ کے حوالے سے اس طرح ہو گئی ہو جیسے اس دن تھی جب تمہاری والدہ نے تمہیں جنم دیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے سورت مائدہ میں یہ آیت نازل کی : ” جو شخص ظلم کرنے کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔