کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 10642
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا قَطْعَ فِيمَا دُونَ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَنَصْرُ بْنُ بَابٍ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : مَا كَانَ بِهِ بَأْسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دس درہم سے کم ( قیمت والی چیز کی چوری ) پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی نصر بن باب ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی نصر بن باب ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے امام أحمد کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 10643
وَعَنْ عِرَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بِالْمَوْسِمِ يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ، وَالْبَعِيرُ أَفْضَلُ مِنَ الْمِجَنِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عراک بیان کرتے ہیں : انہوں نے حج کے موقع پر مروان کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کٹوا دیا تھا اور اونٹ تو ڈھال سے مہنگا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10644
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي دِينَارٍ أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ ، وَالْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہاتھ صرف ایک دینار ، یا دس درہم ( قیمت والی چیز کی چوری ) پر کاٹا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ موقوف ہے قاسم ابوعبدالرحمن نامی راوی ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ موقوف ہے قاسم ابوعبدالرحمن نامی راوی ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 10645
وَعَنْ زَحْرِ بْنِ رَبِيعَةَ ; أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ أَخْبَرَهُ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْقَطْعُ فِي دِينَارٍ أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
زحر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک دینار یا دس درہم ( قیمت والی چیز چوری کرنے ) پر ہاتھ کاٹا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10646
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا قَطْعَ إِلَّا فِي عَشَرَةِ دَرَاهِمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صرف ( یعنی کم از کم ) دس درہم ( قیمت والی چیز چوری کرنے ) پر ہاتھ کاٹا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10647
وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُقْطَعُ السَّارِقُ إِلَّا فِي جَحْفَةٍ " . وَقُوِّمَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دِينَارًا أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چور ( کا ہاتھ ) صرف ڈھال ( یا اس کی قیمت جتنی قیمت والی چیز چوری کرنے ) پر کاٹا جائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں اس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10648
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو وَاقِدٍ الصَّغِيرُ ، قَالَ أَحْمَدُ : مَا أَرَى بِهِ بَأْسًا ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال ( چوری کرنے پر چور کا ہاتھ ) کٹوا دیا تھا ، جس کی قیمت پانچ درہم تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” پانچ درہم تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوواقد صغیر ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” پانچ درہم تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوواقد صغیر ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10649
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ فِي بَيْضَةٍ مِنْ حَدِيدٍ قِيمَتُهَا أَحَدٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی ڈھال ( چوری کرنے پر چور کا ہاتھ ) کٹوا دیا تھا اس ( ڈھال ) کی قیمت اکیس درہم تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مختار بن نافع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10650
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ جَارِيَةً سَرَقَتْ زُكْرَةً مِنْ خَمْرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ تَبْلُغْ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ ، فَلَمْ يَقْطَعْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : كَانَ هَذَا قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَفِيهِ أَبُو حَوْمَلٍ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک لڑکی نے شراب کا مٹکا ( یا مشکیزہ ) چوری کر لیا اس کی قیمت تین درہم بھی نہیں تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ نہیں کٹوایا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : یہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحومل ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : یہ شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحومل ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 10651
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا قَطْعَ فِي مَاشِيَةٍ إِلَّا مَا وَرَاءَ الزِّرْبِ ، وَلَا فِي تَمْرٍ إِلَّا مَا آوَى الْجَرِينُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہاتھ کاٹنے کی سزا صرف اس جانور ( کی چوری ) پر دی جائے گی ، جو باڑے میں سے ( چوری کیا گیا ہو ) اور اس کھجور ( کی چوری ) پر دی جائے گی ، جو گودام میں سے ( چوری کی گئی ہو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10652
وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ;أَنَّ ابْنَ مُقَرِّنٍ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي حَلَفْتُ أَنْ لَا أَنَامَ عَلَى فِرَاشٍ سَنَةً ؟ فَتَلَا عَبْدُ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَةَ : يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ . كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ ، وَنَمْ عَلَى فِرَاشِكَ ، قَالَ : إِنِّي مُوسِرٌ ؟ قَالَ : أَعْتِقْ رَقَبَةً . ¤ قَالَ : عَبْدِي سَرَقَ قِبَاءً مِنْ عِنْدِي ؟ قَالَ : مَالُكَ سَرَقَ بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ - أَيْ لَا قَطْعَ عَلَيْهِ - قَالَ : أَمَتِي زَنَتْ ؟ قَالَ : اجْلِدْهَا ، قَالَ : إِنَّهَا لَمْ تُحْصَنْ ؟ قَالَ : إِسْلَامُهَا إِحْصَانُهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ هَذَا وَغَيْرِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں : ابن مقرن نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، اور کہا: اے ابوعبدالرحمن ! میں نے یہ حلف اٹھایا ہے کہ میں ایک سال تک اپنے بستر پر نہیں سوؤں گا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : اے ایمان والو ! ان پاکیزہ حلال چیزوں کو حرام قرار نہ دو ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہیں ، اور تم حد سے تجاوز نہ کرو بے شک اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “ ۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ) تم اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور اپنے بستر پر سو جاؤ انہوں نے کہا: میں خوشحال شخص ہوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم غلام آزاد کر دو انہوں نے کہا: میرے غلام نے میرے پاس قبا چوری کر لی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے مال کے ایک حصے نے دوسرے کو چوری کر لیا ہے ان کی مراد یہ تھی کہ اس کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی جا سکتی ابن مقرن نے کہا: میری کنیز نے زنا کیا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے کوڑے لگاؤ انہوں نے کہا : وہ محصنہ نہیں ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کا اسلام اس کا احصان ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال اور دیگر روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال اور دیگر روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10653
وَعَنْ الْقَاسِمِ قَالَ : أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بِجَارِيَةٍ سَرَقَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ ، فَلَمْ يَقْطَعْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک کنیز ( یا لڑکی ) کو لایا گیا جس نے چوری کی تھی وہ محصنہ نہیں تھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے لیکن اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور قاسم بن عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے لیکن اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10654
وَعَنْ الْقَاسِمِ أَيْضًا ، قَالَ : قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَقَدْ بَنَى سَعْدٌ الْقَصْرَ ، وَاتَّخَذَ مَسْجِدًا فِي أَصْحَابِ النَّمِرِ ، فَكَانَ يَخْرُجُ إِلَيْهِ فِي الصَّلَوَاتِ ، فَلَمَّا وَلِيَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْتَ الْمَالِ ، نَقِبَ بَيْتُ الْمَالِ ، فَأَخَذَ الرَّجُلَ . ¤ فَكَتَبَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عُمَرَ ، فَكَتَبَ عُمَرُ أَنْ لَا تَقْطَعَهُ ، وَانْقُلِ الْمَسْجِدَ ، وَاجْعَلْ بَيْتَ الْمَالِ مِمَّا يَلِي الْقِبْلَةَ ، فَإِنَّهُ لَا يَزَالُ فِي الْمَسْجِدِ مَنْ يُصَلِّي ، فَنَقَلَهُ عَبْدُ اللَّهِ وَخَطَّ هَذِهِ الْخُطَّةَ ، وَكَانَ الْقَصْرُ الَّذِي بَنَى سَعْدٌ شَاذَرْوَانَ ، كَانَ الْإِمَامُ يَقُومُ عَلَيْهِ ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ ، فَنُقِضَ حَتَّى اسْتَوَى مَقَامُ الْإِمَامِ مَعَ النَّاسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قاسم نامی اسی راوی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آئے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے قصر بنوایا تھا اور انہوں نے اصحاب نمر کے درمیان مسجد بنائی تھی ، وہ نکل کر اس کی طرف نمازوں کی ادائیگی کے لئے جاتے تھے جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بیت المال کا نگران مقرر کیا گیا اور بیت المال میں نقب لگی تو انہوں نے ایک شخص کو پکڑ لیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ تم اس کا ہاتھ نہ کاٹو اور مسجد کو منتقل کر دو اور بیت المال کو قبلہ والی سمت میں کر دو کیونکہ جو شخص نماز ادا کرے گا وہ مسلسل مسجد میں رہے گا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے منتقل کر دیا اور وہاں لکیر لگوا دی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جو محل تعمیر کروایا تھا وہ شاذروان تھا امام اس پر کھڑا ہوتا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حکم کے تحت اسے توڑ دیا گیا تھا یہاں تک کہ امام لوگوں کے برابر کھڑا ہونے لگا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے اپنے دادا سے سماع نہیں کیا ہے اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10655
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : سَرَقَ مَمْلُوكٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَفَا عَنْهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ وَقَدْ سَرَقَ ، فَعَفَا عَنْهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الرَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ . ¤ ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الْخَامِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّادِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ ، فَقَطَعَ رِجْلَهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّامِنَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْبَعٌ بِأَرْبَعٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک غلام نے چوری کر لی یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگزر کیا پھر دوسری مرتبہ آپ کے سامنے اسے پیش کیا گیا کہ اس نے چوری کی ہے ، تو آپ نے پھر اسے معاف کر دیا پھر تیسری مرتبہ اسے آپ کے سامنے لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگزر کیا پھر چوتھی مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اس نے چوری کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا پھر پانچویں مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا پھر چھٹی مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک پاؤں کٹوا دیا پھر ساتویں مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دوسرا ہاتھ کٹوا دیا پھر اسے آٹھویں مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا کہ اس نے چوری کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دوسرا پاؤں کٹوا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار کے بدلے چار ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10656
وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ - يَعْنِي الْحَنَفِيَّ - قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : إِنِّي أَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِسَارِقٍ فَقَطَعَ يَدَهُ . ¤ فَكَأَنَّمَا أَسِفَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ ؟ قَالَ : " وَمَا يَمْنَعُنِي ؟ لَا تَكُونُوا أَعْوَانًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ ، إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : اور میں اس شخص کا ذکر کر رہا تھا ، جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ہاتھ کٹوایا تھا ایک چور کو لایا گیا آپ نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہو گیا ( یعنی آپ اس حوالے سے غمگین تھے ) ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گویا آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے لئے کیا چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے تم لوگ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنوحکمران کے لئے مناسب یہ ہے : جب کوئی مقدمہ آئے ، تو وہ اس کی سزا کو جاری کرے بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے وہ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ( بے شک اس نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” لوگوں کو چاہیے کہ وہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم لوگ یہ بات پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 10657
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا قَالَ : فَكَأَنَّمَا أَسِفَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ذُرَّ عَلَيْهِ رَمَادٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا ۔ راوی کہتے ہیں : یوں لگتا تھا جیسے اس پر راکھ ڈال دی گئی ہو ۔
حدیث نمبر: 10658
وَفِي رِوَايَةٍ : أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ ، فَقَالَ : هَذَا ابْنُ أَخِي ، وَقَدْ سَرَقَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ : امْرَأَةٌ سَرَقَتْ ، فَقُطِعَتْ يَدُهَا ، . . . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ الْمَرْأَةِ ، وَأَبُو مَاجِدٍ الْحَنَفِيُّ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے بھتیجے کو لے کر آیا اور بولا: یہ میرا بھتیجا ہے ، اور اس نے چوری کی ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات جانتے ہو کہ اسلام میں جو پہلی حد جاری ہوئی تھی وہ ایک عورت پر جاری ہوئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اور امام ابویعلیٰ نے صرف عورت والی روایت نقل کی ہے ابوماجد حنفی نامی راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10659
وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ بِابْنِ أَخٍ لَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ سَكْرَانَ ، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ هَذَا سَكْرَانَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : تَرْتِرُوهُ مَزْمِزُوهُ وَاسْتَنْكِهُوهُ . قَالَ : فَتَرْتَرُوهُ وَمَزْمَزُوهُ وَاسْتَنْكَهُوهُ ، فَوُجِدَ مِنْهُ رِيحُ الشَّرَابِ ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى السِّجْنِ ثُمَّ أَخْرَجَهُ مِنَ الْغَدِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَوْطٍ فَدُقَّتْ ثَمَرَتُهُ حَتَّى أَحْنَتْ لَهُ مُخْفَقَةً ثُمَّ قَالَ لِلْجَلَّادِ : اجْلِدْهُ وَأَرْجِعْ يَدَكَ وَأَعْطِ كُلَّ عُضْوٍ حَقَّهُ . ¤ فَضَرَبَهُ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ أَوْجَعَهُ ، وَجَعَلَهُ فِي قَبَاءٍ وَسَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصٍ وَسَرَاوِيلَ ، ثُمَّ قَالَ : بِئْسَ وَاللَّهِ وَالِي الْيَتِيمِ ، مَا أَدَّبْتَ فَأَحْسَنْتَ الْأَدَبَ ، وَلَا سَتَرْتَ الْخِزْيَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ ابْنُ أَخِي أَجِدُ لَهُ مِنَ اللَّوْعَةِ مَا أَجِدُ لِوَلَدِي ! ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ يُحِبُّ الْعَفْوَ ، وَلَا يَنْبَغِي لِوَالٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ . ¤ ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُطِعَ مِنَ الْأَنْصَارِ - أَوْ : فِي الْأَنْصَارِ - فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا سَرَقَ . - فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ . وَأَبُو مَاجِدٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا وہ بھتیجا نشے کی حالت میں تھا اس شخص نے بتایا میں نے اسے نشے کی حالت میں پایا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے حرکت دو تاکہ اسے ہوش آئے ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے ہلایا جلایا اسے حرکت دی اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے پھر اگلے دن اسے وہاں سے نکالا گیا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک چھڑی تیار کرنے کا حکم دیا اس کا پھل اتار لیا گیا یہاں تک کہ وہ ہلکی ہو گئی ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جلاد سے کہا: تم اسے کوڑے لگاؤ اور اپنا ہاتھ کھینچ کے رکھنا اور ہر عضو کو اس کا حق دینا تو اس جلاد نے اسے ایسے مارا کہ جو زیادہ تکلیف دہ نہیں تھا لیکن تکلیف دہ تھا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے قبا اور شلوار پہنائے رکھی تھی یا قمیص اور شلوار تھی پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے چچا سے کہا: اللہ کی قسم ! تم یتیم کے برے والی ہو تم نے اس کی تربیت کرتے ہوئے اچھی تربیت بھی نہیں کی اور اس رسوائی کی بات کی پردہ پوشی بھی نہیں کی اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن یہ میرا بھتیجا ہے میں اس کے لئے وہی محبت محسوس کرتا ہوں جو اپنی اولاد کے لئے کرتا ہوں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے لیکن والی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی حد کا مقدمہ آئے اور وہ اس کو جاری نہ کرے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی انہوں نے فرمایا : مسلمانوں میں سے پہلا شخص جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس کا تعلق انصار سے تھا ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس نے چوری کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جو پہلے گزر چکی ہے ۔ ابوماجد نامی راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10660
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ بِهَا الَّذِينَ سَرَقَتْهُمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ سَرَقَتْنَا ، قَالَ قَوْمُهَا : فَنَحْنُ نَفْدِيهَا - يَعْنِي أَهْلَهَا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اقْطَعُوا يَدَهَا " . ¤ فَقَالُوا : نَحْنُ نَفْدِيهَا بِخَمْسِمِائَةِ دِينَارٍ ، قَالَ " اقْطَعُوا يَدَهَا " فَقُطِعَتْ يَدُهَا الْيُمْنَى ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ : هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَنْتِ الْيَوْمَ مِنْ خَطِيئَتِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْكِ أُمُّكِ " فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ : فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ، إِلَى آخَرِ الْآيَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک عورت نے چوری کر لی وہ لوگ اسے لے کر آئے جن کے ہاں اس عورت نے چوری کی تھی انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اس عورت نے ہمارے ہاں چوری کی ہے عورت کی قوم نے کہا: ہم اس کا فدیہ دے دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو لوگوں نے کہا: ہم اس کے فدیے میں پانچ سو دینار دیدیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دو اس عورت کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں تم اپنے اس گناہ کے حوالے سے اس طرح ہو گئی ہو جیسے اس دن تھی جب تمہاری والدہ نے تمہیں جنم دیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے سورت مائدہ میں یہ آیت نازل کی : ” جو شخص ظلم کرنے کے بعد توبہ کر لے اور اصلاح کر لے تو بے شک اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10661
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَامَ فِي الْمَسْجِدِ ، وَوَضَعَ خَمِيصَةً لَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ، فَأَتَى سَارِقٌ فَسَرَقَهَا ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُقْطَعَ ، فَقَالَ صَفْوَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِيَ لَهُ . قَالَ : " فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : صفوان بن امیہ مدینہ منورہ آئے اور وہ مسجد میں سو گئے انہوں نے اپنی چادر اپنے سر کے نیچے رکھی ایک چور آیا اور اس کو چوری کر لیا وہ اس کو پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چور کے بارے میں حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو صفوان نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ چادر اس کی ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو میرے پاس لانے سے پہلے تم نے ایسا کیوں نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10662
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَارِقٍ قَالُوا : سَرَقَ . قَالَ : " مَا إِخَالُهُ سَرَقَ " . قَالَ : بَلَى قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ ، ثُمَّ احْسِمُوهُ ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ " . ¤ فَذُهِبَ بِهِ فَقُطِعَ ثُمَّ حُسِمَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تُبْ إِلَى اللَّهِ " . فَقَالَ : تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : " تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ . أَوِ : اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانٍ الْقُرَشِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا لوگوں نے بتایا اس نے چوری کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے چوری کی ہو گی اس نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! میں نے چوری کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے داغ لگوا دینا پھر اسے میرے پاس لے کر آنا اسے لے جایا گیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر اسے داغ لگوا دیا گیا ( تاکہ خون بہنا بند ہو جائے ) پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اس نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ قبول کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اے اللہ ! تو اس کی توبہ قبول فرما لے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد أحمد بن ابان قرشی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد أحمد بن ابان قرشی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔