مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَارِقٍ قَالُوا : سَرَقَ . قَالَ : " مَا إِخَالُهُ سَرَقَ " . قَالَ : بَلَى قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " اذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ ، ثُمَّ احْسِمُوهُ ، ثُمَّ ائْتُونِي بِهِ " . ¤ فَذُهِبَ بِهِ فَقُطِعَ ثُمَّ حُسِمَ ثُمَّ جِيءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تُبْ إِلَى اللَّهِ " . فَقَالَ : تُبْتُ إِلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : " تَابَ اللَّهُ عَلَيْكَ . أَوِ : اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانٍ الْقُرَشِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا لوگوں نے بتایا اس نے چوری کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے چوری کی ہو گی اس نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! میں نے چوری کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے داغ لگوا دینا پھر اسے میرے پاس لے کر آنا اسے لے جایا گیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر اسے داغ لگوا دیا گیا ( تاکہ خون بہنا بند ہو جائے ) پھر اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اس نے عرض کی : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ قبول کرتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اے اللہ ! تو اس کی توبہ قبول فرما لے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد أحمد بن ابان قرشی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔