حدیث نمبر: 10659
وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ بِابْنِ أَخٍ لَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ سَكْرَانَ ، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ هَذَا سَكْرَانَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : تَرْتِرُوهُ مَزْمِزُوهُ وَاسْتَنْكِهُوهُ . قَالَ : فَتَرْتَرُوهُ وَمَزْمَزُوهُ وَاسْتَنْكَهُوهُ ، فَوُجِدَ مِنْهُ رِيحُ الشَّرَابِ ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى السِّجْنِ ثُمَّ أَخْرَجَهُ مِنَ الْغَدِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَوْطٍ فَدُقَّتْ ثَمَرَتُهُ حَتَّى أَحْنَتْ لَهُ مُخْفَقَةً ثُمَّ قَالَ لِلْجَلَّادِ : اجْلِدْهُ وَأَرْجِعْ يَدَكَ وَأَعْطِ كُلَّ عُضْوٍ حَقَّهُ . ¤ فَضَرَبَهُ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ أَوْجَعَهُ ، وَجَعَلَهُ فِي قَبَاءٍ وَسَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصٍ وَسَرَاوِيلَ ، ثُمَّ قَالَ : بِئْسَ وَاللَّهِ وَالِي الْيَتِيمِ ، مَا أَدَّبْتَ فَأَحْسَنْتَ الْأَدَبَ ، وَلَا سَتَرْتَ الْخِزْيَةَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنَّهُ ابْنُ أَخِي أَجِدُ لَهُ مِنَ اللَّوْعَةِ مَا أَجِدُ لِوَلَدِي ! ! فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ يُحِبُّ الْعَفْوَ ، وَلَا يَنْبَغِي لِوَالٍ أَنْ يُؤْتَى بِحَدٍّ إِلَّا أَقَامَهُ . ¤ ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قُطِعَ مِنَ الْأَنْصَارِ - أَوْ : فِي الْأَنْصَارِ - فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا سَرَقَ . - فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ . وَأَبُو مَاجِدٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا وہ بھتیجا نشے کی حالت میں تھا اس شخص نے بتایا میں نے اسے نشے کی حالت میں پایا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے حرکت دو تاکہ اسے ہوش آئے ۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اسے ہلایا جلایا اسے حرکت دی اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے پھر اگلے دن اسے وہاں سے نکالا گیا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک چھڑی تیار کرنے کا حکم دیا اس کا پھل اتار لیا گیا یہاں تک کہ وہ ہلکی ہو گئی ، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جلاد سے کہا: تم اسے کوڑے لگاؤ اور اپنا ہاتھ کھینچ کے رکھنا اور ہر عضو کو اس کا حق دینا تو اس جلاد نے اسے ایسے مارا کہ جو زیادہ تکلیف دہ نہیں تھا لیکن تکلیف دہ تھا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے قبا اور شلوار پہنائے رکھی تھی یا قمیص اور شلوار تھی پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ( اس کے چچا سے کہا: اللہ کی قسم ! تم یتیم کے برے والی ہو تم نے اس کی تربیت کرتے ہوئے اچھی تربیت بھی نہیں کی اور اس رسوائی کی بات کی پردہ پوشی بھی نہیں کی اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن یہ میرا بھتیجا ہے میں اس کے لئے وہی محبت محسوس کرتا ہوں جو اپنی اولاد کے لئے کرتا ہوں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے لیکن والی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی حد کا مقدمہ آئے اور وہ اس کو جاری نہ کرے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی انہوں نے فرمایا : مسلمانوں میں سے پہلا شخص جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس کا تعلق انصار سے تھا ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس نے چوری کی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے جو پہلے گزر چکی ہے ۔ ابوماجد نامی راوی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10659
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8572)»