مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 10658
وَفِي رِوَايَةٍ : أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ ، فَقَالَ : هَذَا ابْنُ أَخِي ، وَقَدْ سَرَقَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ : امْرَأَةٌ سَرَقَتْ ، فَقُطِعَتْ يَدُهَا ، . . . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ الْمَرْأَةِ ، وَأَبُو مَاجِدٍ الْحَنَفِيُّ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے بھتیجے کو لے کر آیا اور بولا: یہ میرا بھتیجا ہے ، اور اس نے چوری کی ہے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ بات جانتے ہو کہ اسلام میں جو پہلی حد جاری ہوئی تھی وہ ایک عورت پر جاری ہوئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اور امام ابویعلیٰ نے صرف عورت والی روایت نقل کی ہے ابوماجد حنفی نامی راوی ضعیف ہے ۔