مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
وَعَنْ عِصْمَةَ قَالَ : سَرَقَ مَمْلُوكٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَفَا عَنْهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ وَقَدْ سَرَقَ ، فَعَفَا عَنْهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الرَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَعَفَا عَنْهُ . ¤ ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الْخَامِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّادِسَةَ وَقَدْ سَرَقَ ، فَقَطَعَ رِجْلَهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ السَّابِعَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ يَدَهُ ، ثُمَّ رُفِعَ إِلَيْهِ الثَّامِنَةَ وَقَدْ سَرَقَ فَقَطَعَ رِجْلَهُ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَرْبَعٌ بِأَرْبَعٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک غلام نے چوری کر لی یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگزر کیا پھر دوسری مرتبہ آپ کے سامنے اسے پیش کیا گیا کہ اس نے چوری کی ہے ، تو آپ نے پھر اسے معاف کر دیا پھر تیسری مرتبہ اسے آپ کے سامنے لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے درگزر کیا پھر چوتھی مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا اس نے چوری کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا پھر پانچویں مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا دیا پھر چھٹی مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ایک پاؤں کٹوا دیا پھر ساتویں مرتبہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اس نے چوری کی ہوئی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دوسرا ہاتھ کٹوا دیا پھر اسے آٹھویں مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا کہ اس نے چوری کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دوسرا پاؤں کٹوا دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چار کے بدلے چار ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔